فیڈیریکو ایسپینولائسی

فیڈیریکو ایسپینولائسی

جنگی موت

    ترجمہ: حبیب فخری

     

    ایک سپاہی اپنی بندوق سے

    نشانہ باندھتا ہے اور

    شام بارود کی طرح پھٹ پڑتی ہے

     

    چاند، ایک چمک سے عاری بسکٹ

    کھنکھناتا ہے اور

    لہو کی خوشبو

    بادشب پر سوار آتی ہے

    کوئی کہیں کسی گرد آلود میدان میں

    گرا ہے جہاں

    اوس اندوہ کی طرح دمکتی ہے

    وہ میرا بھائی نہیں

    نہ ہی تمہارا

    تو پھر کیوں بھائی؟