مجھے اکیلے چلنا اچھا لگتا ہے
ترجمہ: حبیب فخری
مجھے اکیلے چلنا اچھا لگتا ہے
صبح سویرے
نوزائیدہ دن کے آغاز پر
جب زمین
رات بھر کے آرام سے تازہ دم اوس
کو بیدار کرنے لگتی ہے
جب اتراتا مرغ بانگ دیتا ہے
اور خوابیدہ شہر آہستگی سے
انگڑائی لیتا ہے
ایک اور دن کا سامنا کرنے سے جھجکتے ہوئے
مجھے اکیلے چلنا اچھا لگتا ہے
غروب کی دفعتاً خاموشی میں
ایک مصروف دن کے اختتام پر
جب ڈوبتے آفتاب کا شعلہ فام جلال
ملائم ہوتے سرمئی اندھیرے میں گم ہو جاتا ہے
جب تارے کھل کر ٹمٹماتے ہیں
اور واماندہ شہر آہستگی سے پاؤں پسار تا ہے
ایک اور دن گزار دینے پر غم آلود خوشی محسوس کرتے ہوئے
مجھے اکیلے چلنا اچھا لگتا ہے
رات کے ٹھہراؤ میں
ایک اور دن کے چوراہوں پر
جب خلیق اندھیرے کافرغل
تمام غلاظت چھپا کر دور لے جاتا ہے
جب چاند آسمان پر اونچا اڑتا ہے
اور بے آواز محو استراحت شہر
لیٹے لیٹے ایک اور دن کے لیے
اپنی ہمت پھر سے بندھاتا ہے