تم کبھی نہیں جانو گے
ترجمہ: احمد سلیم
تم کبھی نہیں جانو گے
کہ میری ہتھیلی پر
کل عالم کی جگہ ہے ...... اور وہ تمہاری ہے
ایک دن تم آئے ...... تن کر کھڑے
ایک فاتح ...... جو زمینیں روند کر آیا
لوگوں اور سمندروں کا پیراک
اور میرے ہاتھ کا خالی پن ......
خوش آمدید! میں کہتی ہوں
وہ کھلی ہتھیلی بن گئی ......
تم مدھ جاتے،
کیونکہ یہ ہتھیلی کھلی اور نرم تھی
تم تذبذب میں پڑ گئے۔ اور چلے گئے
اب ہتھیلی پر کسی کے لیے جگہ نہیں
کہ تم میرا کل عالم تھے ......