وجد آفریں
ترجمہ: تنویر قاضی
وقت محبوبہ کی صورت
کھا کے بل چلتا ہے
دن ڈھلتا ہے
محبوبہ کی چنچل بے رخی جیسے
مگر اک سہ پہر
بنتی ہوئی آئے گی
یادوں کے حسیں نقش و نگار
اور شام کے گہرے دھندلکے میں
چمک جائے گا سورج
اور وہ اک دلربا انداز میں
آئے گی
اک چپو سے کھیلتی
دور کشتی سے