پگھلتا برتن
ترجمہ: تنویر قاضی
ہے اندھیرا قبر جیسا اب یہاں
دائرہ در دائرہ اب رقص کرنا ہے مجھے
اور بکھرنا ہے مجھے
کچھ نہیں حیرت مجھے
ہے آسماں بے کیف گر
اور بھلائے جانے پر ان لوگوں کو
ادراک بھی جو نہ رکھیں
کیا کھیل کھیلے گا مقدر ان کے ساتھ
اور میں لرز جاتا ہوں اس کاسۂ دنیا پر
دیکھ کر کہ آسماں بے کیف ہے کتنا
یہ سب انسان ان جیسے نہیں ہیں کیا
یہ انسانوں کی ناقدری کہ جیسے کوئی مجھ کو گالی دیتا ہے
Udara سے پھسل کر گرتا ہے جب کوئی اندھا
اس طرح کے دوسرے اندھے
کاش میں نے جو بھی دیکھا نصف بھی وہ دیکھتے اس کا
کاش میں نے جو سنا ہے نصف بھی وہ سنتے اس کا
اس صدی کا ایک اندھا آدمی