فلاوین رانادو

فلاوین رانادو

اک عام سی محبت

    ترجمہ: شہزاد احمد

     

    محبت نہ کر مجھ سے یوں میری جان

    کہ جیسے محبت ہو پرچھائیں سے

    یہ پرچھائیں تو شام ہوتے ہی ڈھل جائے گی

     

    محبت تری سرخ مرچوں کی صورت نہ ہو

    کہ جن سے مرا پیٹ جلنے لگے

    اور جب بھوک مجھ کو ستائے

    تو میں تیری جانب نہ رخ کر سکوں

     

    محبت تری ایسا تکیہ نہ ہو

    کہ ہم رات بھر جس پر سر رکھ کر سوتے رہیں

    مگر دن کو اک دوسرے کی طلب ہی نہ ہو

     

    محبت تری بھات جیسی نہ ہو

    کہ ہم بھات کھاتے ہیں اس کا مزہ بھول جاتے ہیں

    یہ محبت تو سرگوشیوں کی طرح بھی نہ ہو

    جو سنیں اور جلدی سے ہم بھول جائیں

    یہ محبت تری شہد جیسی نہ ہو

    شہد شیریں ہے لیکن بہت عام ہے

    مجھ سے یوں پیار کر

    جس طرح تجھ کو پیارے تیرے خواب ہیں

    خواب ...... جو تیری راتوں کا سرمایا ہیں

    خواب ...... جن سے ہمارے دل و جاں امیدوں سے بھرپور ہیں

    خواب...... جو کھنکھناتے ہوئے چالو سکوں کی مانند

    دھرتی پہ ہر دم مرے ساتھ ہیں

     

    ایک لمبے سفر کے لیے، اے مری ہم سفر

    ایک مٹی کے کوزے کی صورت

    جو ہر لمحہ پانی سے لبریز ہو

    ساتھ میرے رہو!