میں تمہیں جانتا ہوں
ترجمہ: احمد سلیم
دہشت کی شبیہ، میں تیرا شناسا
پہچانتا ہوں تیری لا متناہی ویرانی کو
میری آنے والی کل خوف سے دم سادھے ہوئے،
میرے رخساروں پر مقتول آسمان کے خون کے دھبے
اپنے دونوں ہاتھوں کے نشانات سے، میں شناخت کرتا ہوں تجھے
یاد کرتا ہوں تیرے شعلۂ رخسار کو
میں ہر متامل حرف کے پیچھے ایک چیخ دبائے ہوئے ہوں
میں گلے لگاتا ہوں
بن بلاؤ اور کوے کو
اور گلے لگاتا ہوں مردوں کو
جاگ کر وہ سبزے سے اٹھ کھڑے ہوئے
جیسے ان میں دوبارہ جان پڑ گئی ہو
چیونٹی یا کتاب کے بدن میں
پھر میں انہیں خوشی خوشی غسل دیتا ہوں
اپنی گزری ہوئی اور آنے والی کل سے
میں آگے نکل جاتا ہوں
خود اپنا وفادار بن کر
اور مشکل کرتا ہوں دوسروں کو