موج
(آئینہ خالدہ کے لیے)
ترجمہ: چوہدری ابن النصیر
خالدہ:
تم اک شاخ ہو
سرسبز پتوں سے گھری ہوئی اک شاخ
تم اک ایسا سفر ہو
جس کا دن
تمہاری آنکھوں کی جھیل کے پانی میں ڈوبتا ہے
تم اک موج ہو
اک ایسی موج ہو
جس نے دکھلائی تاروں کو روشنی
بادلوں کا چہرہ
اور
یہ بتایا
کہ غبار کی آہیں بھی پھول ہیں