جنگل کی آگ
ترجمہ: افضل احسن رندھاوا
آگ،دریا کہنا چاہیے
ایک سمندر پینا ریت کے پیچھے بھاگنا
پاؤں، ہاتھ
پیار کے لیے، دل کے اندر
یہ دریا جو میرے اندر رہتا ہے، مجھ کو پھر آباد ہے کرتا
آگ کے گرد بیٹھے یہ صرف میں نے تم سے کہا تھا
میری نسل
کسی دریا کی مانند یہاں وہاں
شعلے، نظریں ان کی جو اس بارے سوچیں
میں نے تم سے کہا تھا
میری نسل کو
یاد ہے
پگھلے تانبے کو پینے کا ذائقہ