رسول حمزہ توف

رسول حمزہ توف

آزادی

    ترجمہ: حنیف چوہدری

     

    تیرے بغیر درخت ٹنڈ منڈ اداس کھڑے ہیں

    ان پر بہار کبھی نہ آئے گی

    لوگ تیرے بغیر وحشی اور بے رحم بن گئے ہیں

    اور

    تیرے بغیر گیتوں کا سنسار

    ویران ہے

    تو عنقا تو نہیں جو ہاتھ نہ آئے

    ہم نے تجھے پانے کے لیے

    آنچلوں کے پرچم بنائے

    لہو کے دیپ جلائے

    تیری دھول ہماری مانگ کا سیندور ہے

    دل کا سرور ہے

    ہم پا کر رہیں گے