23سال بعد
ترجمہ: ادیب سہیل
سب کچھ ختم ہو گیا ہے
میں شمعیں بجھاتی ہوں
شام کی زندہ دلی کا طلسم،
جلاد، نقیب شاہی، اور دام تزویر، سب ختم ہوئے
اور ، افسوس، لعن طعن کر رہی ہوں
اور میرے خوابوں میں ، میرے واہمے
بارش، ہوا اور طوفانوں کے جلو میں خداوند کی کشتی کے گرد
اپنا آخری رقص مکمل کر چکنے کے بعد
لافانی ساحل پر سائے کی طرح ہو
تاریکی کے غار سے تم میرا نام لے کر مخاطب کرتے ہو
اپنے سابقہ انداز میں
بار بار آواز دے رہو ...... انا ...... انا
تمہاری آواز میں وہی لگاوٹ ہے