انگرکرسٹن سن

انگرکرسٹن سن

نظم

    ترجمہ:  سعادت سعید

     

    ایک مرد اور ایک عورت

    ایک ہیں

    ایک مرد اور ایک عورت اور ایک کل چڑی

    ایک ہیں

     

    سمٹے پنکھ جال میں الجھائے

    تم اور ایک کل چڑی کے پر

    شام کے گاتے پیڑ کا نگینہ

    پرندے میں مرد کی پناہ

    پرندے کا اس کے اندر غور سے جھانکنا

    فطرت کے شعور سے اڑان

    میں

    میں وہ ہوں جو دیکھ رہی ہے

     

    مبارک لمحوں کا تاریک ہونا

    مرد اور کل چڑی مغلوب ہو گئے

    دونوں میں خواہش پر سکون

    پیو اسی دل کے ساتھ

    گاؤ اسی چونچ کے ساتھ

    خندقی پنہ کا کلوز اپ

    میں

    میں وہ ہوں جو اس منظر سے باہر ہے

     

    غیر حقیقی درد

    کلچڑی کا کھیل اور تمہاری آواز

    وصال اور شام کی گونج

    مرد کی سیٹی کو سنو

    پرندے کی بولی سمجھو

    وہ پکارتی ہے کیا میں ایک عورت ہوں

    میں

    میں وہ ہوں جو کھلی ہے