غلام محمد شیخ

غلام محمد شیخ

جیسلمیر کے کھنڈر دیکھ کر

    ترجمہ: عادل منصوری

     

    سلگا سلگا سورج

    بارہ ہی مکھوں سے

    اور ڈھلا تو

    ٹھٹھرا گیا بارہ عالم کو

    ریت سو رہی یتیم

    بادل موقع پا کر نکل بھاگے

    نپنسک ستارے ہنستے رہے

    تب

    صحرا کے کونے پر بیٹھے تمام گھر

    مرے ہوئے اونٹوں کو کندھے پر ڈال کر

    چل نکلے

    اسباب پڑا بکھرا ریت میں

    پگڑ سواروں کے، پھٹے، اڑے

    گلے سڑے پرندوں کے پروں جیسے

    اور نیم برہنہ آدمی

    کھلے منہ

    نگلتے رہے صحرا کی کانٹے دار ہوا

    (گجراتی)