گیرتھ اوون

گیرتھ اوون

شہر کا گیت

    ترجمہ: عباس رضوی

     

    میرے دماغ کو

    کنکریٹ نے بے لچک بنا دیا ہے

    لوہے کی سلاخیں

    میرے دست و پا ہیں

    میرے پیٹ کو دولت سے بھر دیا گیا ہے

    اور میری روح کو

    ایک سودے میں خریدا گیا تھا

     

    انہوں نے میری شریانوں کے ذریعے

    مجھ میں دھات انڈیل دی ہے

    اور میرے پھیپھڑوں کو سیسہ بھر کے بند کر دیا گیا ہے

    میرے خون کو انہوں نے پلاسٹک میں تبدیل کر لیا ہے

    اور قتل عمد کو میرے ذہن میں بٹھا دیا ہے

     

    میرا چہرہ ایسا تھا

    جیسے موسم کا نقشہ

    گوشت جس نے ہڈیوں پر نشوونما پائی تھی

    مگر انہوں نے میری کہانی آنکھوں سے چھین لی

    اور میرے دل کو پتھر کر دیا

    مجھے دریا کی طرح لہرا کر

    اپنے منبع سے نکلنے دو

    مجھے اس طرح اگنے دو

    جیسے دانے سے خوشہ گندم اگتا ہے

    مجھے اپنے بازو پھیلانے دو

    ایک چھتنار درخت کی طرح

    میرے بچوں کو ایک بار پھر مجھ سے محبت کرنے دو