نظم
ترجمہ: شاداب احمد
گجر بجے
اور پیام بر آ پہنچے
مجھے ان کے آنے کی توقع نہ تھی
حتیٰ کہ ان کی آوازیں بھی یاد نہ تھیں
وہ آئے ... استراحت کے بعد نئے کپڑوں سے آراستہ،
میووں کی ٹوکریاں اٹھائے
میں حیرت میں گم، بڑبڑایا کیا
’’ایمفی تھیٹر تو مجھ میں مسرتیں جگاتے ہیں‘‘
وہ سیپی آن کی اآن میں بھر گئی
اور سٹیج کی روشنیاں مدھم ہو گئیں،
جیسے کوئی رسوائی بھرا ذبح کا منظر
پیش کیا جانے والا ہو