تباہی
ترجمہ: شہاب صفدر
محبت کے تجسس میں تھا شاعر
ملا اک بھیڑیا پہلے
ملا اک شیر اور شمشیر بھی اس کو ملی اک
کئی طوفاں بکف گہرے سمندر اس نے دیکھے
(جنہیں خاکی نظر شاید نہ دیکھے)
ہوا مرگ تمنا سے ہم آغوش
وہ بیٹھا جب سے پتھر توڑتا ہے
اسے پختہ یقیں ہے ہاتھ اس کے
دل ہر سنگ سے مضبوط تر ہیں
چٹخ جائیں گے پتھر اور گر جائیں گے قلعے
یہ موت اس وقت کا جزو اہم ہے
بغیر اس کے مکمل ہم نہیں ہیں