بورخیس

بورخیس

30 ,xxv : متی

    ترجمہ: اجمل کمال

     

    کانسٹی ٹیوشن کے ریلوے اسٹیشن کا پل، میرے قدموں تلے

    آتی جاتی گاڑیاں   آہنی بھول بھلیوں کے راستے ناپتی ہیں

    بھاپ پرشور شکاری کے ساتھ رات میں اوپر چڑھتی ہے

    جو ایک ہی لمحے میں یوم حساب کی رات ہے

    نظروں سے اوجھل اُفق سے

    میری ہستی کے مرکز سے

    ایک لامحدود آواز یہ چیزیں ادا کرتی ہے۔ چیزیں، الفاظ نہیں

    وقت میں قید یہ میرا ناقص ترجمہ ہے

    اسے شے کا ، جو ایک طویل لامتناہی لفظ تھا،

     

    ستارے، روٹی، مشرق و مغرب کے کتب خانے

    تاش کے پتے، شطرنج کی بساطیں، گیلریاں، آسمانی روشنیاں، تہہ خانے

    زمین پر چلنے پھرنے کے لیے ایک انسانی جسم

    خوف اور موت میں بڑھتے ہوئے ناخن

     

    فراموشی کے لیے سائے، ضرب دینے میں مشغول آئینے

    موسیقی کی آبشاریں، وقت کی شکلوں میں سب سے زیادہ نازک

    برازیل اور یوروگوے کی سرحدیں، گھوڑے اور صبحیں

    کانسی کا باٹ، گریٹر ساگا، کی ایک جلد

    الجبرا اور آگ، حونین میں تمہارے لہو کی دھمک

    بالزا ک سے زیادہ پر ہجوم دن، عشق پیچاں کی خوشبو

    محبت، اس کی ناگزیریت اور ناقابل برداشت یادیں

    مدفون خزانوں جیسے خواب، مہربان تقدیر

    اور خود یادداشت، جس پر ایک نظر آدمی کو دوران سر میں مبتلا کر دیتی ہے

    یہ سب کچھ تمہیں دیا گیا اور اس کے ساتھ وہ

    جو سورماؤں کی قدیم غذا ہے

    غداری، شکست اور توہین

    سمندروں کا پھیلاؤ تم پر ضائع ہو گیا

    اور وٹمین کی آنکھ سے دیکھا جانے والا شاندار سورج

    اور تمام برس جن کو تم نے(جنہوں نے تمہیں) صرف کیا

    اور پھر بھی، پھر بھی تم نے نظم نہیں لکھی