بورخیس

بورخیس

یونانی انتھولوجی کے ایک چھوٹے شاعر سے

    ترجمہ: اجمل کمال

     

    کہاں ہے اب یاد

    ان دنوں کی جو اس زمین پر تمہارے تھے

    جو مسرتوں کو غموں کے ساتھ بنتے تھے

    اور ایک ایسی کائنات بناتے تھے جو تمہاری اپنی تھی

     

    برسوں کے دریا نے

    انہیں اپنے بہاؤ کے شمار سے نکال دیا

    اور اب تم ایک فہرست میں محض ایک لفظ ہو

     

    دیوتاؤں نے دوسروں کو شان و شوکت بخشی جس کا کبھی خاتمہ نہیں،

    دستاویزات، سکوں پر کھدے نام، یادگاریں، ایماندار مؤرخ

    اور تمہارے بارے میں، اے گہنائے ہوئے دوست

    ہم صرف اتنا جانتے ہیں

    کہ ایک شام تم بلبل کی آواز سنتے تھے

     

    سایوں کے درخت میں

    تمہارا یہ غرور سایہ

    دیوتاؤں کو نامہربان گردانتا ہو گا

     

    لیکن دن چھوٹے چھوٹے دکھوں کے تانے بانے ہیں

    اور وہ راکھ بن جانے سے بڑھ کر کیا سعادت ہو گی

    جس سے فراموشی بنی ہے

     

    دوسروں کے سروں پر دیوتاؤں نے عظمت کی ایسی روشنی نصب کر دی

    جو چھپے گوشوں کو بے نقاب کرتی ہے

    اور ہر خطا کو دریافت کر لیتی ہے

    عظمت، جس گلاب پر نگاہ کرتی ہے بالآخر اسے مسل ڈالتی ہے

    دیوتا تم پر زیادہ مہربان تھے، میرے بھائی

     

    اس بے انت شام میں جو کبھی رات نہ ہو گی

    تم تھیوکریٹس کی اس بلبل کی آواز سدا سنتے رہو گے