بورخیس

بورخیس

کسی موت کے لیے پچھتاوا

    ترجمہ: شمس الرحمان فاروقی۔ نیر مسعود

     

    یاد اور امید سے آزاد

    بے نہایت، تجریدی

    مردہ آدمی مردہ آدمی نہیں ہے، موت ہے

    بعض صوفیوں کے خدا کی طرح، جو

    ان کا اصرار ہے کہ صفات نہیں رکھتا

    مردہ آدمی ہر جگہ لاشخص

    کچھ نہیں ہے مگر دنیا کا گھاٹا اور غیر حاضری ہے

    ہم اس سے ہر چیز چھین لیتے ہیں

    ہم اس کے پاس ایک رنگ بھی نہیں چھوڑتے

    یہ ہے وہ آنگن جسے اس کی آنکھیں اب مطالعے کے لیے نہیں اٹھا پاتیں

    اور وہ ہے وہ فٹ پاتھ جہاں اس نے اپنی امیدیں موڑ لیں

    یہ بھی شاید وہی کچھ سوچ رہی ہے جو ہم سوچتے ہیں

    ہم لوگوں نے چوروں کی طرح

    دنوں اور راتوں کے حیران کن خزینے کو آپس میں بانٹا ہے