رابندر ناتھ ٹیگور

رابندر ناتھ ٹیگور

کابلی والا

    ترجمہ: خاقان ساجد

    میری بیٹی مینی تھی تو پانچ برس کی مگر ایک لمحے کو بھی خاموش نہ رہ سکتی تھی۔ دنیا میں قدم رکھنے کے بعد صرف بارہ مہینے میں اس نے بات کرنا سیکھ لیا۔پھر تو جب تک وہ جاگتی رہتی دم بھر کو اس کی زبان نہ رکتی۔ اس کی ماں کبھی کبھی ڈانٹ ڈپٹ کراسے چپ کرا دیتی مگر یہ مجھ سے کیوں کر ہوتا۔ میرے خیال میں مینی کی خاموشی ایک غیر فطری بات تھی جسے میں زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکتا تھا۔ یوں میری اور اس کی پہروں دل کھول کر باتیں ہوا کرتیں۔صبح کا وقت تھا۔ میں اپنے ناول کا سترھواں باب شروع کرنے بیٹھا ہی تھا کہ مینی آ موجود ہوئی۔ کہنے لگی ’’بابا دیال ، کاگ کوکوا کہا ہے، نرا مورکھ ہے۔ کچھ جانتا نہیں نا!‘‘ اس سے پہلے کہ میں مختلف زبانوں کا فرق اسے سمجھاتا اس نے دوسرا مضمون چھیڑ دیا:   ’’بھولا کہتا ہے کہ آسمان پر ایک ہاتھی ہے۔ وہ اپنی سونڈ سے پانی پیتا ہے تو بارش ہوتی ہے۔ بھولا کیسی کیسی باتیں بناتا ہے۔ دن رات بکے جاتا ہے۔‘‘ یہ کہتے کہتے وہ میز کے قریب میرے پاؤں کے پاس آ بیٹھی اور میرے گھٹنوں سے کھیلنے لگی۔ ادھر میرے ناول کے سترھویں باب میں پرتاب سنگھ ، کنچن مالا کو لیے اندھیری رات میں قید خانے کے اونچے دریچے سے ندی میں کود رہا تھا۔

    میرا مکان سڑک کے کنارے واقع ہے۔ اچانک مینی کھیلنا چھوڑ کر کھڑکی کی طرف دوڑی اور زور زور سے فیل مچانے لگی۔ ’’کابلی والا، او کابلی والا۔‘‘ ڈھیلا ڈھالا موٹا لباس پہنے، پگڑی باندھے، پیٹھ پر ایک جھولی لٹکائے اور انگوروں کے کچھ ڈبے ہاتھ میں اٹھائے ایک لمبا تڑنگا کابلی افغان ادھر سے گزر رہا تھا۔ نہ جانے اسے دیکھ کر میری بھولی بچی کو کیا سوجھا کہ یوں اسے بے ساختہ پکارنے لگی۔ مجھے خیال ہوا کہ اگر پشت پر جھولی ڈالے یہ بلائے درماں ادھر آدھمکا تو میرے ناول کا سترھواں باب پورا نہ ہو سکے گا۔ خیر جونہی کابلی نے ہنستے ہوئے میرے مکان کا رخ کیا، بچی گھبرا کر گھر میں جا گھسی۔ اسے یہ ان دیکھا یقین تھا کہ اگر تلاشی لی جائے تو کابلی کی جھولی کے اندر انسانوں کے مینی جیسے کئی بچے ملیں گے۔ کابلی اندر آیا اور مجھے سلام کرکے کھڑا رہا۔ میں نے سوچا کہ اگر چہ میرے ناول کا ہیرو پرتاب سنگھ اور ہیروئن کنچن مالا، اس وقت دردناک دوراہے پر کھڑے ہیں مگر یوں اس کابلی کو گھر بلا کر بغیر کچھ دیے ٹال دینا مناسب نہیں، سو میں نے کچھ الٹا سیدھا سودا کیا۔ امیر عبدالرحمٰن کا ذکر آیا، کچھ روس اور انگریزوں کے درمیان سرحد کی حفاظت کے بارے میں جو معاہدہ طے پایا تھا اس کے بارے میں بھی باتیں ہوئیں۔ چلتے وقت کابلی نے مجھ سے پوچھا: ’’بابو جی تمہارا وہ لڑکی کدھر گیا؟‘‘ مینی کے دل میں کابلی کے بارے میں جو بے بنیاد خوف پیدا ہو گیا تھا اسے دور کرنے کے لیے میں نے بچی کو بلا بھیجا۔ مینی آگئی مگر مجھ سے لگ کر کھڑی ہو گئی اور کابلی اور اس کی جھولی کو مشتبہ نظروں سے دیکھتی رہی۔ کابلی نے اپنی جھولی میں سے کچھ کشمش ، کچھ خوبانیاں نکال کر مینی کی طرف بڑھائیں مگر اس نے ان چیزوں کو قبول نہ کیا۔ بلکہ اور بھی خوفزدہ ہو کر وہ میرے زانو سے چمٹ گئی۔ یہ تھی مینی اور کابلی کی پہلی ملاقات!

    کچھ دنوں بعد   ایک روز میں کسی ضرورت سے گھر سے باہر نکلا تو دیکھا کہ مینی دروازے کے پاس بنچ پر بیٹھی ہے اور مسلسل بکے جا رہی ہے۔ کابلی اس کے پاس بیٹھا اس کی باتیں سن رہا ہے، ہنس رہا ہے اور کبھی کبھی ٹوٹی پھوٹی بنگالی میں اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہے۔ مینی کو اپنی پانچ سالہ زندگی میں میرے سوا کوئی ایسا شخص نہیں ملا تھا جو اس کی کابلی کی طرح پورے انہماک سے اس کی باتیں سنا۔ میں نے دیکھا کہ مینی کا چھوٹا سا آنچل بادام، کشمش، اخروٹ وغیرہ سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے کابلی سے کہا:’’خان تم یہ تکلیف کیوں کرتے ہو۔ اسے چیزیں نہ دیا کرو۔‘‘ یہ کہہ کر میں نے اسے ایک اٹھنی دی جسے اس نے بغیر کچھ کہے اپنی جھولی میں ڈال لیا۔

    جب میں گھر لوٹا تو دیکھا کہ اس اٹھنی نے اچھا خاصا ہنگامہ برپا کر رکھا تھا۔ میری بیوی ایک گول سی چمکدار چیز ہاتھ میں لیے مینی سے پوچھ رہی ہے: ’’بتا تجھے یہ اٹھنی کہاں سے ملی؟‘‘ مینی کہہ رہی تھی ’’مجھے کابلی نے دی ہے۔‘‘ اس کی ماں نے کہا:’’تو نے کابلی سے یہ اٹھنی کیوں لی؟‘‘ اس ہنگامے سے گھبرا کر میں مینی کو اپنے کمرے میں لے آیا۔ پوچھا تو معلوم ہوا کہ کابلی اور مینی کی یہ دوسری ملاقات نہ تھی۔ کابلی کو جس کا نام رحمت تھا،دیکھتے ہی مینی پوچھتی ’’کابلی ، تمہاری جھولی میں کیا ہے؟‘‘ رحمت بے ضرورت ایک نون غنہ ڈال کر کہتا ’’ہانتھی‘‘ یعنی اس کی جھولی میں ایک ہاتھی ہے۔ کابلی کے خیال میں یہ نہایت ہی لطیف مزاح تھا۔ یہ مذاق اگرچہ چنداں لطیف نہ تھا مگر دونوں اس پر خوب ہنستے۔ ایک ادھیڑ عمر شخص سے ایک ننھی منی   لڑکی کی دلچسپ باتیں سن کر میرا بھی دل بہل جاتا۔ کابلی اکثر مینی کو پستہ، بادام وغیرہ دے جاتا تھا۔ غالباً انہی  تحفوں سے اس نے بچی کا دل موہ لیا تھا۔ دونوں کے درمیان خوب گھل مل کر باتیں ہوا کرتیں، رحمت مینی سے پوچھتا۔ ’’مینی بابا تم سسرال کب جائے گا؟‘‘ بنگالی لڑکی شاید پیدا ہوتے ہی سسرال کے لفظ سے آشنا ہو جایا کرتی ہے لیکن ہم لوگ چونکہ نئی روشنی کے زیراثر آ چکے تھے، ہماری بچی کو اس وقت تک اس کا علم نہ تھا ، تاہم بات کا جواب نہ دینا اور خاموش رہ جانا مینی کی فطرت کے خلاف تھا۔ وہ کابلی کے سوال کے جواب میں ایک سوال جڑ دیتی ’’کابلی تم سسرال نہیں جاؤ گے؟‘‘ رحمت اپنے فرضی سسر کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بھاری سا گھونسہ اٹھاتا: ’’ام اپنا سسر کو اس سے ماریں گے۔‘‘ مینی یہ تو نہیں جانتی تھی کہ سسر کس بلا کا نام ہے مگر اس بیچارے فرضی سسر کی مشکل کا اندازہ کرکے وہ زور سے ہنس پڑتی۔

    ان دنوں پت جھڑ کا موسم تھا۔ ایسے ہی دنوں میں اگلے زمانے کے راجہ مہاراجہ دنیا فتح کرنے نکلا کرتے تھے۔ میں خود کبھی کلکتہ سے باہر نہیں نکلا اسی لیے میرے خیالات دنیا بھر میں چکر لگاتے پھر رہے تھے۔ میں اپنے مکان میں گوشہ نشین ہو گیا ہوں۔ میرا دل ہر وقت باہر کی دنیا میں لگا رہتا ہے۔ کسی اجنبی ملک کا نام سنتے ہی میری سوچ کو پر لگ جاتے ہیں۔ کسی پر دیسی کو دیکھتا ہوں تو تخیل کے پردے پر اس ملک کی ندی، پہاڑ اور جنگل کے دامن میں ایک چھوٹا سا جھونپڑا نمودار ہو جاتا ہے، ایک ہنسی گاتی زندگی کا خاکہ میرے ذہن میں کھنچ جاتا ہے۔ اگرچہ میرا دل ساری دنیا میں لگا رہا ہے۔ لیکن میں ایسا درخت بن گیا ہوں جو اپنے پیروں کی مٹی کو مضبوطی سے پکڑے رکھتا ہے۔ جب کبھی گھر سے نکلنے کی ضرورت آن پڑے تو سر پر گویا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ اسی لیے اپنے گھر میں ، چھوٹے سے کمرے میں اپنے میز کے پاس بیٹھے بیٹھے اس کابلی کی باتیں سن کر سیر و سیاحت کا شوق پورا کر لیتا تھا۔ ٹوٹی پھوٹی بنگالی مگر گرجدار آواز میں کابلی میری آنکھوں کے سامنے ایک نقشہ کھینچ دیتا۔ پہاڑی پگڈنڈی ہے جس کے دونوں طرف سرخی مائل پتھریلی زمین ہے۔ بے آب و گیاہ راستے پر پگڑی باندھے تاجروں اور راہ گیروں کا قافلہ چلا جا رہا ہے۔ کوئی اونٹ پر سوار ہے ، کوئی پیدل چل رہا ہے۔ کسی کے پاس پرانی وضع کی بندوق ہے۔ کوئی ہاتھ میں برچھا اٹھائے ہوئے ہے۔

    مینی کی ماں کی طبیعت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ ذرا سی بات پر گھبرا جایا کرتی ہے۔ اس کی عمر زیادہ نہیں مگر زندگی کے نشیب و فراز سمجھنے کے لیے کافی ہو چکی تھی۔ پھر بھی اس کے دل میں یہ وہم بیٹھ گیا تھا کہ دنیا کا ہر کونہ چوروں ، شرابیوں، سانپوں، شیروں، ملیریا کے کیڑوں اور گوروں سے بھرا پڑا ہے۔سڑک پر معمولی سا شور ہوتا ہے تو سمجھتی کہ دنیا بھر کے شرابی، اس کے گھر کی طرف دوڑے چلے آرہے ہیں۔ ایسی صورت میں رحمت کابلی اسے کیوں کر پسند آتا۔ اس کی حرکات و سکنات پر نگاہ رکھنے کے لیے وہ مجھے باربار تاکید کرتی۔ اس کے شکوک ہنس کر ٹا لنے کی کوشش کرتا تو سوال کرنے لگتی ’’کیا کبھی کسی کا بچہ چوری ہوتے نہیں سنا؟کیا کابل میں بردہ فروشی نہیں ہوتی؟ کیا ایک لمبے تڑنگے کابلی کے لیے ایک چھوٹی سی بچی کو اٹھا لے جانا ناممکن ہے؟ میں مان لیتا کہ یہ سب امکان سے باہر نہیں تھا مگر پھر بھی رحمت کابلی کے متعلق ایسا گمان رکھنا نا مناسب تھا۔ خیر اعتماد کا مادہ ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتا۔ میری بیوی بدستور بدگمان رہتی اگرچہ میں رحمت کو اپنے گھر آنے سے روک نہ سکا۔

    ہر سال ماگھ کے مہینے میں رحمت کابلی اپنے وطن چلا جاتا۔ ان دنوں اسے گھر گھر جا کر اپنا بقایا وصول کرنے کی مصروفیت ہوتی تھی۔ پھر بھی اب کے برس وہ ہر روز وقت نکال کر مینی کو درشن دے جاتا۔ صبح کو نہ آ سکا تو شام کو آجاتا۔ اسے میرے گھر پر دیکھ کر لوگوں کو حیرت ہوتی۔ ڈھیلی ڈھالی پوشاک پہنے جھولی لٹکائے اس لمبے تڑنگے شخص کو اندھیری کوٹھری کے ایک کونے میں بیٹھا دیکھ کر کچھ کھٹکا تو ہوتا تھا مگر جوں ہی مینی ’’کابلی والا، کابلی والا ‘‘ پکارتی ، کھلکھلاتی ہوئی دوڑتی ہوئی چلی آتی اور دونوں میں مذاق کی جانی بوجھی باتیں شروع ہو جاتیں، تو دیکھنے والوں کو قدرے اطمینان ہو جاتا۔

    کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی۔ جاتے جاتے جاڑا اپنا زور دکھا رہا تھا۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھا پروف دیکھ رہا تھا۔ صبح کی دھوپ جو کھڑکی سے ہو کر میرے پیروں پر پڑ رہی تھی بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔ کوئی آٹھ بجے کا عمل ہو گا۔ صبح کے ٹہلنے والے اپنے سر اور کان گلوبند میں لپیٹے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ اتنے میں گلی میں سے شور و غل بلند ہونے لگا۔ میں نے گردن گھما کر دیکھا کہ رحمت کو دو پولیس والے پکڑے لیے جاتے ہیں۔ تماشائی لڑکوں کا ایک ہجوم بھی ہمراہ ہے۔ رحمت کے کپڑوں پر خون کی چھینٹیں تھیں۔ میں نے باہر نکل کر سپاہیوں سے ماجرا دریافت کیا۔ کچھ ان لوگوں سے کچھ رحمت سے سن کر پتہ چلا کہ ہمارے پڑوس میں ایک شخص نے رحمت سے ایک دام پوری چادر ادھار لی تھی جس کا کچھ روپیہ باقی رہ گیا تھا مگر اب وہ شخص چادر لینے ہی سے مکر گیا۔ اسی تکرار میں بات بڑھ گئی اور رحمت نے اسے چھرا مار دیا۔ رحمت اس شخص کو موٹی موٹی گالیاں دے رہا تھا۔ اتنے میں ’’کابلی والا، کابلی والا‘‘ پکارتی ہوئی مینی گھر کے باہر آ موجود ہوئی۔

    رحمت کا چہرہ خوشی سے پھول کی طرح کھل گیا۔ آج کابلی کے پاس جھولی نہیں تھی چنانچہ ’’ہانتھی‘‘ کا ذکر نہ ہوا۔ مینی نے اچانک پوچھا   ’’کابلی، کیا سسرال جاؤ گے؟‘‘ رحمت نے ہنس کر کہا ’’وہیں جا رہا ہوں۔‘‘ لیکن جب اس نے دیکھا کہ اس کے جواب سے مینی کو لطف نہیں آیا تو اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے اس نے کہا ’’ان سسروں کو ام مار کے پڑا کر دیتا لیکن کیا کرے ہاتھ بندھا ہے۔‘‘ ایک شخص پر قاتلانہ حملہ کرنے کے جرم میں رحمت کو کئی سال کی سزا ہو گئی۔

    کچھ دنوں کے بعد ہم لوگ اس قصے کو بھول گئے۔ ہمیں کبھی بھولے سے بھی خیال نہ آیا کہ ایک آزاد پہاڑی باشندہ قید خانے کے اندر کیوں کر دن گزار رہا ہے۔ مینی کی اس فراموش کاری پر مجھے شرم آتی۔ اپنے پرانے دوستوں کو بھول کر اس نے بنی سائیں سے دوستی کر لی تھی۔ پھر جوں جوں اس کی عمر بڑھتی گئی دوستوں کو چوڑ سکھی سہیلیوں سے راہ رسم بڑھانے لگی۔ پھر تو یہ حال ہوا کہ میرے کمرے میں بھی شاذ و نادر ہی آتی جیسے مجھ سے لڑائی ہو گئی ہو۔

    کئی برس بیت گئے۔ وہی خزاں کے دن ہیں۔ مینی کی شادی طے پا چکی تھی۔ پوجا کی چھٹیوں میں شادی انجام پائے گی۔ درگا مائی جس دن کیلاش سدھاریں گی میرے گھر کی رونق بھی ہمیں اندھیرے میں چھوڑ کر پیاکے آنگن کا رخ کرے گی۔

    آج کی سویر بڑی خوشگوار جیسے برسات نے ساری فضا کو دھو ڈالا ہو۔ صبح کی دھوپ سہاگے میں پگھلے ہوئے سونے کی طرح دمک رہی   ہے۔ یہاں تک کہ کلکتہ کی گلیوں میں بوسیدہ مکانوں کی شکستہ اینٹیں بھی دھوپ میں نکھری نکھری لگ رہی ہیں۔ ہمارے گھر پر صبح ہی سے شہنائی بجنا شروع ہو گئی ہے۔ شہنائی کا ہر سر میرے دل کو مسل رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آنے والی جدائی کا خیال میرے دل کو جو دکھ دے رہا ہے بھیرویں کا رنگ اسے دھوپ کی چادر کی صورت میں ساری دنیا میں پھیلا رہا ہے۔ انگنائی میں شامیانہ تاننے کے لیے بانس کی کھونٹیاں گاڑی جا رہی ہیں۔ برآمدے میں فانوس لٹکانے کے لیے   ٹھک ٹھک ہو رہی ہے۔ لوگوں کے آنے جانے اور ہانک پکار میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ میں اپنے دفتر میں بیٹھا اخراجات کا حساب لکھ رہا ہوں۔ اتنے میں رحمت کابلی داخل ہوا اورسلام کرکے کھڑا ہو گیا۔ میں پہلی نظر میں تو اسے پہچان بھی نہ سکا کیونکہ نہ اس کے پاس جھولی تھی نہ لمبے لمبے بال اور نہ ہی بدن میں پہلی سی چستی تھی۔ میں نے پوچھا ’’رحمت تو کب آیا؟‘‘ بولا’’بابو جی کل شام جیل سے چھوٹ کر آیا ہوں۔‘‘ اس کی   بات میرے کانوں کو بھلی نہ لگی۔ میں نے ایک خونی کو پہلی بار اتنے قریب سے دیکھا تھا۔ میرا دل سہم گیا۔ جی میں آئی کہ وہ چلا جائے تو اچھا ہو۔ میں نے اس سے کہا ’’آج ہمارے گھر پر ایک تقریب ہے، مجھے ذرا بھی فرصت نہیں۔ آج جاؤ۔‘‘ یہ سن کر وہ فوراً چل پڑا مگر دروازے تک جا کر جھجکتا ہوا بولا ۔ ’’کیا بچی کو ایک دفعہ دیکھ نہیں سکتا؟‘‘ اس کا خیال تھا کہ مینی پہلے جیسی ہی ہو گی اور ’’کابلی والا ، کابلی والا‘‘ پکارتی ہوئی دوڑی آئے گی۔ مینی کے لیے انگوروں کا ڈبہ اور کاغذ میں لپٹے ہوئے کچھ کشمش بادام وہ اپنے کسی ہم وطن سے لیتا آیا تھا کیونکہ اس کی اپنی جھولی تو تھی نہیں۔ میں نے پھر کہا ’’گھر پر ایک تقریب ہے، آج کسی سے بھی ملاقات نہیں ہو سکتی۔‘‘ وہ کچھ ملول ہو کر چپکا کھڑا رہا پھر ’’بابو سلام‘‘ کہہ کر باہر نکل گیا۔ میرے دل کو ایک دھچکا سا لگا۔ سوچا کہ اسے واپس بلا لوں۔ اتنے میں دیکھا کہ وہ خود پلٹ کر آرہا ہے۔ قریب آ کر بولا۔ ’’یہ انگور اور کچھ کشمش بادام بچی کے لیے لایا تھا اسے دے دیجیے گا۔‘‘میں نے قیمت ادا کرنے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا مگر اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا’’بابو جی آپ ام پر برابر مہربانی کیا ہے سو ام کبھی بھول نہیں سکتا۔ ام کو دام مت دو۔ بابو جی تمہارا جیسا لڑکی ویسا دیس میں ہمارا بھی ایک لڑکی ہے۔ ام اس کو یاد کرکے اپنی لڑکی کے واسطے کچھ میوہ لے آیا کرتا ہے۔ ام آپ کے پاس سودا بیچنے نہیں آتا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنے ڈھیلے ڈھالے کرتے میں ہاتھ ڈال کر ایک تہہ کیا ہوا میلا سا کاغذ نکالا اور دونوں ہاتھوں سے دھیرے دھیرے کھول کر میری میز پر بچھا دیا۔ اس پر ایک ننھے سے ہاتھ کی چھاپ تھی۔ فوٹو تھا نہ رنگین تصویر تھی۔ بچی کے ہاتھ میں کوئی رنگ لگا کر اس نے کاغذ پر چھاپ اتار لی تھی۔ ہر سال رحمت کلکتہ آکر گھرگھرمیوہ وغیرہ بیچا کرتا اور اس چھاپے کو سینے سے لگائے رکھتا۔ شاید اس سے بیٹی کی جدائی کا کچھ مداوا ہو جاتا ہو۔

    چھاپ کو دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میرے اور اس کے درمیان کوئی فرق نہ رہا۔ میں بھو ل گیا کہ وہ ایک کابلی میوہ فروش ہے اور میں ایک معزز بنگالی ہوں۔ میں نے محسوس کیا کہ میری ہی طرح وہ بھی ایک بچی کا باپ ہے۔ دور دیس کی بیٹی کے ہاتھ کی چھاپ مجھے اپنی مینی کی یاد دلا گئی۔ میں نے فوراً اسے اندر بلا بھیجا۔ عورتوں نے اعتراض کرنا چاہا مگر میں نے ایک نہ سنی۔

    لال ریشمی ساڑھی پہنے، پیشانی پر چندن کی لکیریں ، دلہن کے لباس میں شرماتی لجاتی مینی میرے نزدیک آ کر کھڑی ہو گئی۔ کابلی اسے دیکھ کر ہچکچا گیا اور پرانی طرز پر باتیں نہ کر سکا۔ ہنستے ہوئے صرف اس نے یہ پوچھا ’’مینی بابا سسرال جا رہی ہو؟‘‘ مینی پہلے کی طرح رحمت کو جواب نہ دے سکی اور شرما کر منہ پھیر لیا۔ مجھے وہ دن یاد آگیا جب کابلی کے ساتھ مینی کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ میرا دل کروٹیں بدلنے لگا۔

    مینی کے واپس جانے کے بعد رحمت ایک ٹھنڈی سانس لے کر زمین پر بیٹھ گیا۔ غالباً اسے احساس ہو گیا تھا کہ اس کی اپنی لڑکی بھی اتنے دنوں میں مینی کی طرح سیانی ہو چکی ہو گی اور اس سے نئی طرح سے بات چیت کرنی پڑے گی۔ نہیں معلوم آٹھ سال کے عرصے میں اس پر کیا گزری ہو گی۔ صبح کی خوشگوار دھوپ میں شہنائی بج رہی تھی اوررحمت خاموش بیٹھا تھا۔ میں نے اسے ایک نوٹ دیا اور کہا ’’رحمت اپنی لڑکی کے پاس جاؤ۔ تم باپ بیٹی کے ملنے سے میری مینی کی شادی میں برکت ہو گی۔‘‘ اس نوٹ کے دینے سے مجھے شادی کے سازوسامان میں کس قدر کمی کرنا پڑی۔ میں نے بجلی کی بتیوں کی تعداد گھٹا دی اور بینڈ باجا بھی نہ منگایا۔ اس سے عورتوں کو بہت ملال ہوا مگر مجھے ایسی خوشی نصیب ہوئی جو شاید دنیا کے سارے سازوسامان اکٹھا کرکے بھی نہ ہوتی۔