نیلگوں میدان
ترجمہ: وجاہت مسعود
میں اور دادا ذاکر ڈان کے کنارے ایک پہاڑی پر سیاہ خار دار جھاڑی کے نیچے لیٹے ہیں۔ گرمی کی شدت سے ڈان بالکل خشک ہو رہا ہے۔ ایک بھوری پتنگ بادلوں کی ٹکڑیوں کے قریب ڈول رہی ہے۔ جھاڑی پرندوں کے گرے ہوئے پروں سے اٹی پڑی ہے مگر اس کے پتے دھوپ کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ حدت سے میرے کان سنسنا رہے ہیں۔ بل کھائے دریا کے موجیں مارتے پاٹ پر نظر ڈالتے ہوئے اور پھر پاس ہی جھریوں بھرے تربوزوں کو دیکھ کر حلق میں یہ گاڑھا تھوک آتا ہے کہ جسے خشکی کے مارے تھوکا بھی نہ جا سکے۔ نیم خشک جوہڑ کے کیچڑ میں بھیڑیں ایک دوسرے میں گھسی بیٹھی ہیں۔ وہ تھکاوٹ سے دوہری ہوتی ٹانگوں کو جھکائے، اپنی جھبری دموں کو ہلاتی گردوغبار میں چھینکیں مار رہی ہیں۔ جوہڑ سے پرے بند کے قریب ایک ہٹا کٹا مینڈھا پچھلی ٹانگیں زمین پر بجھائے زرد رنگ کی ایک میلی کچیلی بھیڑ کے تھن جھنجھوڑ رہا ہے۔ وقفے وقفے سے وہ پیچھے ہٹ کر لیوے میں سینگ مارتا ہے جس سے غریب ماں بلبلا کر پشت کو مزید خم دیتی ہے کہ زیادہ دودھ اس کے حلق میں پہنچ سکے۔ یہاں سے بے چاری بھیڑ کی آنکھوں میں جھلکتی اذیت صاف دکھائی دیتی ہے۔
میرے پاس لیٹے دادا ذاکر کسمسا کر اٹھ بیٹھے ہیں۔ اپنی اونی قمیص اتار کر آنکھوں کے قریب لاتے ہیں اور غور سے اسے دیکھتے ہوئے اس پر ہاتھ پھیرتے ہیں جیسے اس کی تہوں میں کچھ تلاش کر رہے ہوں۔ دادا اس برس ستر سال کے ہو جائیں گے۔ ان کی ننگی پشت پر جھریوں کا جال بچھا ہے اور کندھوں کی نوکیلی ہڈیاں کھال میں سے جھانک رہی ہیں مگر ان کی آنکھیں ابھی تک نیلی اور جوانی سے بھرپور ہیں۔ کڑبری کمان بھنوؤں کے نیچے ان کی نگاہوں میں تیر کی سی کاٹ ہے۔
انہوں نے اپنی کھردری اور رعشہ زدہ انگلیوں میں بڑی مشکل سے ایک جوں پکڑ رکھی ہے، کچھ دیر نرمی سے پکڑنے کے بعد وہ اسے ہاتھ بڑھا کر زمین پر چھوڑ دیتے ہیں۔ انگشت شہادت سے ہوا میں صلیب کا نشان بنایا اور بھاری آواز میں بولے:
’’لو! اب چلتی پھرتی نظر آؤ، زندہ رہنا چاہتی ہو نا! میرا بھی یہی خیال ہے مگر تم نے میرا لہو خوب چوسا۔‘‘
کھانستے ہوئے اور حلق صاف کرتے ہوئے بڑے میاں نے دوبارہ اپنی قمیص پہنی اور سر اونچا کرکے لکڑی کی صراحی سے نیم گرم پانی پینے لگے۔ ہر گھونٹ کے ساتھ ان کی ٹھوڑی کے لٹکے ہوئے گوشت میں حرکت کرتا گلے کا کنٹھ صاف نظر آتا ہے۔ پانی کے قطرے بہہ کر ان کی داڑھی بھگو رہے ہیں اور جھکے ہوئے زعفرانی پپوٹے دھوپ میں سرخ ہو رہے ہیں۔
صراحی ہٹا کر وہ کن اکھیوں سے مجھے دیکھتے ہیں۔ مجھے بھی اپنی طرف دیکھتا پا کر انہوں نے ہونٹ بھینچ لیے اور میدان پر نظریں جما دیں۔
وادی کا دوسرا کنارا چمکتے ہوئے غبار میں جلتا دکھائی دیتا ہے۔ جھلسی ہوئی زمین سے ٹکرا کر آتی ہوا میں جنگلی جھاڑیوں کی شہد جیسی خوشبو بسی ہے۔ کچھ دیر بڑے میاں خاموش رہے پھر گڈریوں والا آنکڑا ہٹاتے ہوئے تمباکو سے بدرنگ ہوتی انگلی میری طرف ہلائی اور بولے:
’’میدان کے پار پاپلر کے ان درختوں کو دیکھ رہے ہو۔ یہ ٹوپو کیفکا ہے۔ کبھی یہ ٹومی لن کا تعلقہ تھا۔ اس گاؤں کو بھی ٹوپوکیفکا کہتے تھے۔ گاؤں کے سبھی لوگ غلام تھے۔میرا باپ بھی انہی میں سے ایک تھا۔ مرتے دم تک وہ الیفگراف ٹومی لن کا گاڑی بان رہا۔ میں چھوٹا سا تھا تو میرا باپ بتایا کرتا تھا کہ مالک نے اسے اپنے ہمسائے سے ایک پالتو سارس کے بدلے خریدا تھا۔ باپ کے مرنے کے بعد میں نے اس کی جگہ لے لی۔ مالک خود ساٹھ برس کا ہو رہا تھا مگر یہ ہٹا کٹا اور زوردار جوان، جوانی میں شہنشاہ کے محافظ دستے میں رہا تھا۔ ریٹائر ہو کر ادھر ڈان پر آ بسا۔کاسکوں نے ڈان پر خاندانی زمین ہتھیا لی تھی مگر معاوضے کے طور پر سارتوف صوبے میں چھ ہزار ایکڑ زمین دے دی۔ ٹومی لن نے یہ زمین سارتوف میں ٹھیکے پر دے رکھی تھی اور خود ٹوپولیفکا میں ہی رہتا تھا۔
عجیب شخص تھا۔ ہمیشہ جارجیا کا اونی چغہ پہنے رہتا۔ کمر بند سے خنجر لٹکا رہتا۔ سیر کرنے جاتا تو ٹوپولیفکا سے باہر نکلتے ہی پکار کر مجھ سے کہتا:
’’اے کم بخت ! گھوڑے کیسی مریل چال چل رہے ہیں۔‘‘
میں چابک گھماتا اور گھوڑے ایسا سر پٹ بھاگتے کہ مارے سردی کے آنکھوں سے بہتا پانی خشک ہونے میں نہ آتا۔ آن کی آن میں ہم سڑک کے پار برساتی نالے پر پہنچ جاتے۔ موسم بہار میں نالا پانی سے بھرا رہتا۔ گاڑی کے اگلے پہیے تو آسانی سے گزر جاتے مگر پچھلے پہیے چٹکنے لگتے۔ کوئی آدھ میل آگے جا کر وہ پھر چلاتا:’’واپس چلو۔‘‘ اور میں پھر سے برساتی نالے میں گاڑی ڈال دیتا۔ نالے میں سے دو تین بار گزرنے سے یا تو کوئی سپرنگ ٹوٹ جاتا یا پہیہ اتر جاتا۔ مالک غراتا ہوا گاڑی سے اترتا اور پیدل گھر کی طرف چل پڑتا۔ میں بھی پیچھے پیچھے گھوڑوں کو ہنکائے چلا آتا۔
اس کی ایک اور تفریح بھی تھی۔ ہم گھر سے دور نکل آتے تو میرے کوچ بکس کے پاس آ کر مجھ سے چابک لے لیتا اور چلا کر کہتا:
’’ہاں بھئی، ذرا اس اگلے والے کو الوپ انجن تو کرو۔‘‘ میں پوری قوت سے اگلے گھوڑے کو تیز بھگاتا حتیٰ کہ گاڑی کے بانس گولی کی سی رفتار سے ہوا کا سینہ چیرنے لگتے۔ مالک اس دوران میں پچھلے گھوڑوں پر چابک برساتا رہتا۔ ان دنوں ایک گاڑی میں تین گھوڑے جوتے جاتے تھے۔ پچھلے گھوڑے ڈان کے اصیل گھوڑے تھے۔ ان کی سانپ جیسی گردنیں جھکی ہوتیں گویا زمین کو کاٹ کھانا چاہتے ہوں۔
مالک ایک ہی گھوڑے پر چابک برساتا رہتا یہاں تک کہ غریب جانور کی تھوتھنی جھاگ سے بھر جاتی ...... پھر وہ اپنا خنجر نکالتا اور آگے جھک کر جانور پر ایسے گھاؤ لگاتا گویا استرے سے بال کاٹ رہا ہو۔ گھوڑا کوئی پانچ گز اچھل کر دوبارہ زمین پر آتا۔ اس کے نتھنوں سے خون ابل رہا ہوتا...... اور پھر وہ دوسرے گھوڑے کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتا اس دوران میں اگلا گھوڑا بھاگتے بھاگتے بے دم ہو جاتا مگر مالک پر کوئی اثر نہ ہوتا البتہ اس سارے کھیل سے اس کا مزاج قدرے بحال ہو جاتا اور لہو کی سرخی اس کے گالوں میں دوڑنے لگتی۔
سیدھے سبھاؤ سے تو وہ کوئی کام کر ہی نہیں سکتا تھا۔ آج گاڑی کہیں ٹکرا دی تو کل گھوڑے ہلاک کر ڈالے اور پھر قدم مارتے چلے آرہے ہیں گھر کو ...... بڑا بزدل شخص تھا ......خیر اب تو قصہ ہی ختم ہوا۔ اچھی بری سب اوپر والے کے سامنے ہے۔
مالک میری گھر والی کے ساتھ چھیڑ خانی بھی کیا کرتا تھا وہ مالک کی لونڈیوں میں سے ایک تھی۔ کئی بار جب وہ گھر لوٹتی تو اس کی چولی تار تار ہوتی اور رو رو کر آنکھیں سوجی ہوتیں۔ سینے پر جگہ جگہ خراشیں اور دانتوں سے کاٹنے کے نشان ہوتے ...... خیر ایک شام مجھے مالک نے ڈاکٹر کو بلانے کے لیے شہر بھیجا۔ میں جانتا تھا کہ ڈاکٹر کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اصل میں مالک کی نیت خراب ہو رہی تھی۔ سو میں راستے ہی میں رک گیا اور اندھیرا ہونے پر پچھلی طرف سے تعلقے میں داخل ہوا۔ باغ میں گھوڑے باندھے اور چابک اٹھا کر اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔ میں نے دروازہ کھولا اور جان بوجھ کے موم بتی جلائے بغیر اندر داخل ہو گیا۔ بستر پر سے کچھ کھٹ پٹ کی آواز آرہی تھی۔ جیسے ہی مالک بستر پر سے اترا میں نے اسے چابک پر رکھ لیا۔ چابک کے سرے پر سیسہ لگا ہوا تھا۔ وہ اندھیرے میں کھڑکی کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے ایک اور چابک ماتھے پر جڑا اور وہ کھڑکی سے کود بھاگا۔ میں نے بیوی کو بھی ایک دو چابک لگائے اور بستر پر لیٹ گیا۔
کوئی پانچ چھ دن گزر گئے۔ ہمیں کسی کام سے گاؤں جانا پڑا۔ میں گاڑی ٹھیک کر رہا تھا۔ مالک نے میرا چابک اٹھا یا اور اسے انگلیوں سے ٹٹولنے لگا آخر اس نے چابک کے سرے پر لگے سیسے کو پالیا اور بولا: ’’ابے سور کے جنے! یہ چابک میں سیسہ تو نے کس لیے لگا رکھا ہے؟‘‘
’’آپ ہی نے تو کہا تھا!‘‘ میں نے جواب دیا۔
برساتی نالے تک وہ بغیر کوئی لفظ منہ سے نکالے بیٹھا رہا۔ بس دانتوں سے سیٹی بجاتا رہا۔ میں نے آنکھ بچا کر اس کی طرف دیکھا۔ اس نے ماتھے پر بالوں کی لٹ ڈال رکھی تھی اور ٹوپی کو خوب آگے کی طرف جھکایا ہوا تھا۔ دو سال بعد اس پر فالج گر گیا۔ ہم اسے بڑے ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹر بلائے گئے۔ جب وہ لوگ کمرے میں داخل ہوئے تو مالک فرش پر پڑا تھا۔ اس کا چہرہ سیاہ ہو رہا تھا۔ اس نے جیب سے نوٹوں کی گڈیاں نکالیں اور انہیں ڈاکٹروں کی طرف اچھالتے ہوئے بولا۔ ’’سورو! مجھے ٹھیک کر دو۔ میں تمہیں اپنا سب کچھ دے دوں گا۔‘‘
مگر وہ اپنی دولت اپنے فوجی افسر بیٹے کے لیے چھوڑ کر مر گیا۔ خدا اس پر رحم کرے۔ اس کا بیٹا جب چھوٹا سا تھا تو کتے کے زندہ پلوں کی کھال اتروا کر انہیں باغ میں دوڑایا کرتا تھا۔ عین مین باپ پر گیا تھا مگر بڑا ہو کر اس نے یہ حرکتیں چھوڑ دیں۔ سیخ کی طرح لمبا اور پتلا تھا۔ عورتوں کی طرح اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑے رہتے تھے۔ ناک پر سونے کی عینک ہوتی جسے وہ چھوٹی سی ڈوری سے باندھے رکھتا۔ جرمنوں کے ساتھ جنگ کے دوران وہ سائبریا میں قیدیوں کا نگران تھا۔ انقلاب کے بعد وہ پھر اسی علاقے میں آن بسا۔ میرے پوتے جوان ہو رہے تھے۔ ان کا باپ چل بسا تھا۔ میں نے بڑے پوتے سیمون کی شادی کر دی تھی مگر چھوٹا انکئی ابھی کنورا ہی تھا ...... بہار کے موسم میں ایک اور انقلاب ہو گیا۔ ہمارے لوگوں نے مالک کو تعلقے سے بھگا دیا اور اسی دن سیمون نے کسانوں کو آمادہ کر لیا کہ مالک کی جائیداد پر قبضہ کر لیا جائے۔ سو یہی ہوا۔ حویلی میں جس کے ہاتھ جو شے لگی اٹھا کر سٹک لیا۔ زمین کے ٹکڑے بانٹ لیے گئے اور ہل چلائے جانے لگے۔ کوئی ہفتہ بھر گزرا ہو گا ، افواہ پھیل گئی کہ مالک کاسکوں کی فوج لیے سب کو قتل کرنے چلا آرہا تھا۔ گاؤں والے مل بیٹھے۔ دو چھکڑے اسٹیشن سے اسلحہ منگوانے بھیج دیے گئے۔ ایسٹر کے ہفتے ہمیں سرخ محافظوں کی طرف سے اسلحہ مل گیا۔ ٹوپولیفکا سے لے کر بڑے تالاب تک خندقیں کھد گئیں۔
وہ گھاٹی سے پرے جھاڑیاں دیکھ رہے ہو نا! ٹوپولیفکا والے یہاں مورچے بنا کر بیٹھ گئے۔ میرے دونوں لڑکے سیمون اور انکئی بھی ان کے ساتھ ہی تھے۔ صبح کے وقت عورتیں انہیں کھانا پہنچا آتیں۔ سورج ابھی پہاڑی تک بلند نہ ہوا تھا کہ گھوڑ سوار آن پہنچے۔ چمکتی تلواریں تولتے ہوئے انہوں نے گھیرا ڈال لیا۔ میں اپنے صحن سے دیکھ رہا تھا۔ سفید گھوڑے پر سوار افسر نے تلوار لہرائی اور بوری سے نکلتے مٹر کے دانوں کی طرح پہاڑی سےنیچے آنے لگے۔ میں مالک کے سفید گھوڑے کی چال پہچانتا تھا۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ مالک خود فوج کی کمان کر رہا تھا۔ خیرہمارے لوگوں نے دو دفعہ کاسکوں کو پسپا کیا مگر پھر وہ چمکہ دے کر پیچھے سے آئے...... اور قتل عام شروع ہو گیا۔ سورج ڈھلنے تک سب کچھ ختم ہو گیا۔ میں گلی میں نکل آیا۔ گھوڑ سوار قیدیوں کا ایک جتھا لیے تعلقے کی طرف جا رہے تھے۔ میں بھی لاٹھی ٹیکتا پیچھے پیچھے ہو لیا۔
صحن میں ہمارے لوگ ریوڑ کی طرح ایک طرف بیٹھے تھے، اردگرد کاسکوں کا پہرا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر اپنے پوتوں کے بارے میں پوچھا۔ دونوں وہیں موجود تھے۔ میں ان سے بات کر رہا تھا کہ مالک احاطے کی سیڑھیاں چڑھتا نظر آیا۔
’’دادا ذاکر! یہ تم ہی ہو نا‘‘ وہ مجھے دیکھتے ہی پکار کر بولا۔
’’ہاں مائی باپ!‘‘
’’تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘
میں سیڑھیاں چڑھا اور اس کے سامنے جھک گیا۔
’’میں اپنے پوتوں کی جان بخشی کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ مالک رحم کرو۔ میں نے ساری زندگی آپ کے باپ کی ، خدا اس کی مغفرت کرے، خدمت کی ہے۔ مالک، میرے بڑھاپے پر رحم کرو۔‘‘
’’سنو، دادا ذاکر!‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’تم نے میرے باپ کی خدمت کی ہے۔ میں اس بات کا احترام کرتا ہوں مگر میں تمہارے پوتوں کو معاف نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کھلی بغاوت کی ہے۔ بڑے میاں یہ تو کرنی کا پھل ہے۔‘‘
میں نے آگے بڑھ کر اس کے پیروں پر سر رکھ دیا۔ ’’رحم کرو، مالک۔ میں نے ان ہاتھوں سے تمہیں کھلایا ہے۔ مجھے برباد نہ کرو۔ میرے سیمون کا ایک دودھ پیتا بچہ ہے۔‘‘
اس نے خوشبودار سگریٹ سلگایا اور دھواں پھینکتے ہوئے بولا: ’’اچھا جا کر ان حرام زادوں کو میرے کمرے میں لاؤ۔ اگر وہ معافی مانگ لیں تو ٹھیک ہے میں انہیں چار جوتے لگواؤں گا اور اپنے سپاہیوں میں بھرتی کر لوں گاشاید وہ اپنی نمک حرامی کا دھبہ دھو سکیں۔‘‘
میں بھاگتا ہوا اپنے پوتوں کے پاس پہنچا اور ان کے بازو کھینچتا ہوا چلایا: ’’جاؤ اور مالک سے معافی مانگ لو۔ حرام نخمو۔ مالک جب تک معاف نہ کرے زمین سے سر نہ اٹھانا۔‘‘
مگر سیمون نے سر اٹھا کر بھی میری طرف نہ دیکھا بس چوتڑوں کے بل بیٹھا چھوٹی سی چھڑی سے زمین کھرچتا رہا۔ میرے انکئی نے مجھ پر ایک نظر ڈالی اور تڑخ کر بولا: ’’جاؤ اور اپنے مالک سے کہہ دو ، دادا ذاکر ساری عمر گھٹنوں کے بل جھکا رہا۔ اس کے بیٹے نے بھی زندگی بھر یہی کیا مگر اس کے پوتے اب یہ نہیں کریں گے۔جاؤ اسے بتا دو!‘‘
’’تو تم نہیں جاؤ گے۔ کتیا کے بچے۔‘‘
’’نہیں میں نہیں جاؤں گا۔‘‘
’’ابے بدمعاش، تمہارا کیا ہے، تم جیو یا مرو مگر اپنے ساتھ سیمون کو کس لیے گھسیٹتے ہو۔ اس کی بیوی اور بچے کو کون سنبھالے گا؟‘‘
لکڑی سے زمین کریدتے ہوئے سیمون کے ہاتھ کانپنے لگے مگر اس نے ایک لفظ نہیں بولا۔ بس مٹی کا مادھو بنا بیٹھا رہا۔
’’جاؤ دادا! ہمارا حوصلہ نہ توڑو۔‘‘ انکئی نے منت کی۔
’’میں نہیں جاؤں گا۔ لعنت ہو تم پر۔ اگر سیمون کو کچھ ہو گیا تو انیسا خود کو مار ڈالے گی۔‘‘
سیمون کے ہاتھ میں پکڑی لکڑی ٹوٹ کر زمین پر جا گری۔ میں انتظار کر تا رہا مگر وہ اب بھی خاموش رہا۔
’’سیمون، میرے بیٹے، ہوش میں آؤ۔ میرے سہارے! مالک کے پاس چلے چلو۔‘‘
’’ہم ہوش میں آچکے ہیں، اس لیے مالک کے پاس نہیں جائیں گے۔ تم جاؤ اور ماتھا رگڑو۔‘‘ انکئی نے چمک کر کہا۔
’’تو تم مجھے مالک کے سامنے جھکنے کا طعنہ دے رہے ہو۔ خیر میں بوڑھا ہو چکا، اب ماں کی چھاتی کی بجائے مالک کی چابک چوستا ہوں۔ میں تو اپنے پوتوں کے سامنے بھی ماتھا رگڑ سکتا ہوں۔‘‘
اور میں وہیں گھٹنوں کے بل ان کے سامنے جھک گیا اور منت کرنے لگا۔ اردگرد بیٹھے لوگوں نے دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیا گویا مجھے دیکھ نہیں رہے۔
’’چلے جاؤ، دادا، چلے جاؤ ورنہ میں تمہیں مار ڈالوں گا۔‘‘ انکئی نے چلا کر کہا۔ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اور آنکھیں رسی سے بندھے بھیڑیے کی طرح وحشی ہو رہی تھیں۔
میں واپس مڑ کر مالک کی طرف چلا گیا۔ میں نے اس کی ٹانگوں کو اس زور سے پکڑا کہ اگر وہ چاہتا بھی تو مجھے ٹھوکر مار کر پرے نہ ہٹا سکتا۔
میرے بازو سن ہو رہے تھے اور منہ سےایک لفظ نہیں نکلا۔
’’کہاں ہیں تمہارے پوتے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’مالک وہ ڈر رہے ہیں ......‘‘
’’ہوں ...... وہ ڈر رہے ہیں۔‘‘ مزید کوئی لفظ کہے بنا اس نے زور سے میرے منہ پر ٹھوکر ماری اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
دادا ذاکر اوبھی سانسیں لینے لگا۔ ان کا چہرہ چرمرا کر رہ گیا۔ رنگ پیلا پڑ گیا۔ بڑی مشکل سے انہوں نے اپنی سسکی روکی اور ہاتھ سے خشک ہونٹ پونچھتے ہوئے منہ پھیر لیا۔ جوہڑ سے پرے ایک چیل نے پر پھیلا کر گھاس پر غوطہ لگایا اور ایک سفید کونج کو پنجوں میں دبائے اوپر اٹھ گئی۔ کونج کے پر برف کے گالوں کی طرح ہوا میں بکھر گئے۔ سبز گھاس پر گرتے سفید پر اور بھی تابناک نظر آتے تھے۔
دادا ذاکر نے ناک صاف کیا اور اونی قمیص کے دامن سے انگلیاں پونچھتے ہوئے پھر سے بولنے لگے:
’’میں مالک کے پیچھے پیچھے بھاگتا ہوا سیڑھیوں تک گیا۔ انیسا اپنے بچے کو بازوؤں میں اٹھائے چلی آ رہی تھی۔ وہ کسی کونج کی طرح ڈولی اور اپنے خاوند کے بازوؤں میں گر گئی۔
مالک نے سارجنٹ میجر کو بلا کر سیمون اور انکئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کچھ کہا۔ سارجنٹ میجر اور چھ کاسک دونوں کو لے کر باغ کی طرف چل پڑے۔ میں بھی پیچھے پیچھے تھے۔ انیسا نے اپنے بچے کو وہیں صحن میں پٹخا اور مالک کے ساتھ ساتھ چلتی گئی۔ سیمون سب سے آگے چل رہا تھا۔ اصطبل کے سامنے وہ زمین پر بیٹھ گیا۔
’’تمہیں کیا تکلیف ہے؟‘‘ مالک نے پوچھا۔
’’میرا جوتا کاٹ رہا ہے۔ اسے اتار رہا ہوں۔‘‘ سیمون نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اس نے جوتے اتار کر میری طرف بڑھا دیے اور بولا۔ ’’لو اور انہیں پہنو اور خوش رہو، ان میں دوہرا تلا لگا ہوا ہے۔‘‘
میں نے جوتے پکڑ لیے اور ہم لوگ چلتے رہے۔ جنگلے کے پاس پہنچ کر کاسکوں نے انہیں کھڑا کر دیا اور بندوقیں بھرنے لگے۔ مالک قریب ہی کھڑا ناخن تراش سے ناخن کاٹ رہا تھا۔ میں نے دیکھا اس کے ہاتھ برف کی طرح سفید تھے۔
’’مالک مجھے ان کے کپڑے لے لینے دو۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اچھے کپڑے ہیں۔ ہم انہیں پہن لیں گے۔‘‘
’’ہاں! ہاں! اتروا لو۔‘‘
چنانچہ انکئی نے اپنی پتلون اتار کر سیدھی کی اور جنگلے پر لٹکا دی پھر اس نے جیب سے سگریٹ کا ٹکڑا نکال کر جلایا اور دھوئیں کے گولے بناتا ہوا ایک ٹانگ آگے بڑھا کر کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ زمین پر تھوکتا رہا۔ سیمون نے بھی اپنے کپڑے اتار ڈالے۔ حتیٰ کہ اونی پتلون بھی اتار دی مگر وہ اپنی ٹوپی اتارنا بھول گیا۔ شاید اسے خود بھی خبر نہیں تھی کہ وہ کیا کر رہا تھا ......میرا یہ حال تھا کہ ابھی جسم حرارت سے پھنک رہا ہے اور ابھی ٹھنڈے پسینے آرہے ہیں۔ میں نے اپنا ماتھا چھو کر دیکھا پسینے کے قطرے چشمے کے پانی کی طرح ٹھنڈے تھے۔ سیمون کی چھاتی گھنے بالوں سے ڈھکی ہوئی تھی اور وہ سر پر ٹوپی لیے الف ننگا کھڑا تھا۔ انیسا نے اس کی طرف دیکھا اور روتی پیٹتی اس سے یوں چمٹ گئی جیسے برگد سے بیل لپٹ جاتی ہے۔ سیمون نے اسے پرے دھکیلا۔
’’دفان ہو جاؤ، ہوش میں آؤ۔ کیا کر رہی ہو؟ تمہیں نظر نہیں آتا میں ننگا کھڑا ہوں، کم بخت شرم کرو!‘‘
انیسا کے بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ چلا رہی تھی: ’’ہم دونوں کو گولی مار دو۔‘‘ مالک نے ناخن تراش جیب میں رکھتے ہوئے پوچھا: ’’تو پھر چلائیں گولی۔‘‘
’’گولی چلاؤ۔ حرام کی اولاد۔‘‘ وہ مالک کی طرف دیکھتے ہوئے چلائی۔
’’اسے خاوند کے ساتھ باندھ دو۔‘‘ مالک نے حکم دیا۔
انیسا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، اس نے پیچھے ہٹنا چاہا مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ کاسکوں نے قہقہے لگاتے ہوئے اسے رسی سے سیمون کے ساتھ باندھ دیا۔ بے وقوف عورت زمین پر گر گئی اور سیمون بھی اس کے ساتھ ہی نیچے گر گیا......مالک ان کے پاس آیا اور دانت بھینچ کر بولا:’’غالباً اپنے بچے کی خاطر تم معافی مانگنا چاہو گے؟‘‘
’’ہاں !‘‘ سیمون نے سسکی لی۔
’’خوب! مگر اب مجھ سے معافی مانگنے کا وقت گزر چکا۔ اب خدا سے معافی مانگو۔‘‘
انہوں نے دونوں کو زمین پر پڑے پڑے گولی مار دی۔ جب انکئی کو گولی لگی تو وہ فوراً زمین پر گرنے کے بجائے اپنے قدموں پر تھوڑا سا ڈولا۔ اس کے گھٹنے جھک گئے اور وہ بل کھا کر چت گر گیا۔ مالک نے اس کے پاس جا کر بڑی نرمی سے کہا:’’اگر زندہ رہنا ہے تو معافی مانگ لو۔ میں تمہیں پچاس کوڑے لگوا کر محاذ کے لیے بھرتی کر لوں گا۔‘‘ انکئی نے تھوکنا چاہا، تھوک اس کی داڑھی پر بہہ نکلا۔ غصے سے اس کا رنگ سفید پڑ گیا مگر سب بے کار ...... تین گولیاں اس کے جسم سے پار ہو چکی تھیں۔
’’اسے سڑ ک پر پھینک دو‘‘ مالک نے حکم دیا۔ کاسکوں نے اسے اٹھایا اور جنگلے سے پرے لے جا کر سڑک پر رکھ دیا۔ عین اسی وقت دو توپیں لیے گھوڑ سوا کاسکوں کی ایک کمپنی ٹوپولیفکا سے نکلی۔ مالک کسی جواں مرغ کی طرح اچھل کر جنگلے پر چڑھ گیا اور چلایا۔
’’ابے سر پٹ دوڑو، اور اس سے بچنے کی کوشش نہ کرو اس کے اوپر سے گزرو۔‘‘
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں سیمون کے جوتے اور کپڑے اٹھائے کھڑا تھا مگر میری ٹانگیں مجھے اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ میں وہیں ڈھے گیا ...... تم جانو! گھوڑے بھی خدا کے حکم سے ہی چلتے ہیں کسی گھوڑے نے میرے انکئی پر قدم نہیں رکھا۔ وہ اسے پھلانگتے ہوئے گزر گئے۔ میں جنگلے سے چمٹا کھڑا تھا۔ آنکھیں بند تھیں اور دانت بھنچ کر رہ گئے تھے۔ توپ کے پہیے انکئی کے اوپر سے گزر گئے۔ خشک روٹی کی طرح ہڈیاں کڑکڑانے لگیں اور پھر کنڈوں کی طرح پس کر رہ گئیں...... میں نے سوچا درد سے مر جائے گا مگر اس نے تو آواز بھی نہیں نکالی۔ بس زمین سے مٹھی بھر خاک اٹھائی اور منہ میں ٹھونس لی ...... مٹی چباتے ہوئے وہ بغیر آنکھ جھپکائے مالک کی طرف دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھیں آسمان کی طرح صاف اور چمکدار تھیں۔
خیر اس دن ہمارے مالک ٹومی لن نے بتیس آدمی گولیوں سے بھون ڈالے صرف انکئی اپنی ہمت کے بل پر زندہ بچ رہا۔
دادا ذاکر نے ندیدوں کی طرح صراحی سے پانی پیا۔ مرجھائے ہوئے ہونٹ پونچھے اور آہستہ سے بولے:
’’جو ہوا سو ہوا۔ اب تو بس وہ خندقیں باقی ہیں جو ہمارے لوگوں نے تھوڑی سی زمین جوتنے کے لیے کھودی تھیں۔ خندقوں میں گھاس اور جڑی بوٹیاں اگ آئی ہیں ...... انکئی کی ٹانگیں کٹوانا پڑی تھیں۔ وہ اب ہاتھوں کے بل گھسٹ گھسٹ کرچلتا ہے۔
سردیوں میں مویشی دریا پر پانی پینے جا رہے ہوں تو وہ گلی کے بیچ میں ہاتھ ہوا میں کھڑا کرکے بیٹھ جاتا ہے۔ بیل اسے دیکھ کر مارے خوف کے گرتے پڑتے برف کی طرف بھاگ نکلتے ہیں اور وہ قہقہے لگانے لگتا ہے۔
صرف ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ بہار کا موسم تھا۔ کمیون کا ٹریکٹر ہل چلانے جا رہا تھا وہ بھی اس پر بیٹھ لیا۔ میں کچھ فاصلے پر بھیڑیں چرا رہا تھا۔ میں نے دیکھا انکئی ہل چلائی ہوئی زمین پر گھسٹتا جا رہا تھا۔ میں نے سوچایہ کیا کر رہا ہے؟...... خیر انکئی نے ادھر ادھر دیکھا اور اوندھے منہ زمین پر لیٹ گیا۔ ہل سے اکھڑا ہوا ایک ڈھیلا اٹھایا اور اسے ہاتھوں سے ٹٹولتے ہوئے چومنے لگا...... وہ عمر کے پچیسویں سال میں ہے اور اب کبھی ہل نہیں چلا سکے گا بس یہ بات اسے اداس کر دیتی ہے۔‘‘
دھواں دھواں شام میں نیلگوں میدان ا ونگھ رہا تھا۔ تاریک ہوتی جھاڑیوں میں شہد کی مکھیاں دن کا آخری شہد جمع کر رہی تھیں۔ رنگ بدلتی گھاس کی پتیاں بڑی شان سے ہوا میں لہرا رہی تھیں۔ بھیڑوں کا گلہ آہستہ آہستہ پہاڑی سے اتر کر ٹوپولیفکا کی طرف جا رہا تھا۔ دادا ذاکر اپنی چھڑی سے جھکے خاموشی سے پیچھے پیچھے چل دیے۔ سڑک پر بچھی دھول میں دو نشان صاف نظر آرہے تھے ایک نشان تو کسی بھیڑیے کا تھا جو لمبے لمبے قدم اٹھاتا یہاں سے گزرا تھا اور ترچھی پٹیوں والا دوسرا نقش ٹوپولیفکا کے ٹریکٹر نے ڈالا تھا۔
گھاس پھوس سے اٹی متروکہ کچی سڑک کے پاس دونوں نشان جدا ہو گئے۔ بھیڑیے کے قدموں کے نشانات سڑک سے اتر کر جھاڑیوں میں غائب ہو گئے اور سڑک پر ایک ہی نقش نظر آنے لگا، گہرا اور باقاعدہ نشان جس سے جلے ہوئے پٹرول کی بو آرہی تھی۔