ایوان بیونن

ایوان بیونن

آخری ملاقات

    ترجمہ: وجاہت مسعود

    پت جھڑ کی سرد اور گیلی رات تھی۔ چاند نکلا ہوا تھا۔ سٹریش نیف نے ملازم کو بلا کر کہا کہ گھوڑے پر زین ڈال دے۔

    اندھیرے اصطبل کی چھوٹی سی کھڑکی میں سے چھن کر آتی چاندنی کی نیلگوں لکیرمیں گھوڑے کی آنکھ ہیرے کی کنی کی طرح چمک رہی تھی۔ سائیس نے گھوڑے پر بھاری بھرکم زین رکھی اور لگام سے پکڑ کر اسے اصطبل سے باہر لے آیا۔ باہر نکل کر اس نے گھوڑے کی دم پکڑی اور اس میں گرہ لگا دی۔ جانور خوب سدھا ہواتھا مگر جب زین کے بند اس کی پسلیوں میں چبھتے تو وہ اوبھی اوبھی سانسیں لینے لگتا۔ زین کا ایک بند ٹوٹا ہوا تھا۔ سائیس نے بڑی مشکل سے اسے کنڈے میں سے گزار ا اور دانتوں سے کھینچ کر گرہ لگا دی۔

    زین کسنے سے فربہ گھوڑا چست نظر آنے لگا۔ سائیس نے احاطے کے سامنے پہنچ کر لگام کو لکڑی کے سال خوردہ کھمبے کے گرد لپیٹا اور واپس چلا گیا۔ گھوڑا دیر تک چوبی کھمبے پر سم مارتا رہا اور پیلے پیلے دانتوں سے اسے کاٹنے کی کوشش کرتا رہا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ پسلیاں پھلا کر ہنہناتا ۔ ایسا کرنے میں اس کے پیٹ کے تمام پٹھے لرزنے لگتے۔ قریب ہی گڑھے میں آخری راتوں کے چاند کا سبزی مائل عکس پڑ رہا تھا۔ بے پتوں کے باغ میں دھند آلود کہر ا اتر رہا تھا۔

    شکاری چابک ہاتھ میں لیے سٹریش نیف ڈیوڑھی میں نمودار ہوا لمبی اور خمیدہ ناک ، چھریرا جسم مگر کاٹھی چوڑی۔ اس کا چھوٹا سا سر اوپر اٹھا ہوا تھا۔ قرمزی رنگ کا استراخانی ہیٹ لیے، بھوری جیکٹ اور نقرئی کمر بند باندھے قد آور سٹریش نیف بے حد وجیہ نظر آتا تھا۔ چاند کی روشنی میں بھی دیکھا جا سکتا تھا کہ اس کا ستا ہوا چہرہ زمانے کے سرد گرم چشیدہ تھا۔ گھنگھریالی مگر گھنی داڑھی میں کہیں کہیں سفیدی کی جھلک تھی اور گردن کے پٹھے کھچے ہوئے تھے۔ اس کے شکاری جوتے پر انے ہو چلے تھے اور جیکٹ کے دامن پر خرگوش کے خون کے خشک دھبے نظر آتے تھے۔

    ڈیوڑھی کی دیوار میں ایک چھوٹی سی کھڑکی کھلی۔ مدھم سی آواز میں کسی نے پوچھا:

    ’’آندرئی بیٹا کہاں جا رہے ہو؟‘‘

    ’’اماں۔ میں اب بچہ نہیں رہا۔‘‘ سٹریش نیف نے تیوری چڑھا کر لگام تھامتے ہوئے جواب دیا۔ کھڑکی بند ہو گئی مگر اب برآمدے کا دروازہ کھلا۔ پاویل سٹریش نیف چپل گھسیٹتا ہوا ڈیوڑھی تک آیا۔

    ’’کدھر کے ارادے ہیں، آندرائی؟‘‘ اس نے بھاری آواز میں سوال کیا۔ اس کی چندھی آنکھیں پھولے ہوئے گالوں میں دھنسی ہوئی تھیں۔ سفیدی مائل بالوں کو پیچھے کی طرف کنگھی کیا گیا تھا۔ زیرجامہ پہنے پاویل نے اوورکوٹ کندھوں پر ڈال رکھا تھا۔ عام طور پر ذرا سا نشہ بھی اس کی زبان کھول دیا کرتا تھا۔ ’’بہرحال ویرا الیکسی وناکو میری طرف سے آداب کہنا۔ میں نے ہمیشہ اس کا احترام کیا ہے۔‘‘

    ’’تو گویا آپ کسی کا احترام بھی کر سکتے ہیں۔‘‘ سٹریس نیف نے جواب دیا۔ ’’ویسے یہ آپ ہر وقت پرائے پھڈے میں ٹانگ کیوں اڑایا کرتے ہیں؟‘‘

    ’’اوہو۔ معاف کرنا بھئی، معاف کرنا!‘‘ پاویل بولا اور گنگناتا ہوا واپس ہو لیا۔ ’’گلی اکیلی ہے اور یہ اندھیری راتیں ہیں۔ جو آملوتو سجن ...... ‘‘

    سٹریش نیف دانت پیستا ہوا گھوڑے کی طرف مڑا۔ رکاب سے پاؤں چھوتے ہی گویا گھوڑے میں زندگی لوٹ آئی اور اس نے لڑکھڑاتے ہوئے چلنا شروع کر دیا۔ سٹریش نیف آہستہ سے سوار ہوا اور چرچراتی ہوئی کاٹھی پر جم کر بیٹھ گیا۔ گھوڑے نے گردن اٹھائی اور گڑھے میں چاند کے عکس کو روندتا ہوا دلکی چال چلنے لگا۔

    ٭٭٭

    چاندنی میں نہائے ہوئے سرد کھیتوں کی چوبی باڑیں جگنوؤں سے سپید ہو رہی تھیں۔ الو آواز پیدا کیے بغیر اچانک باڑوں سے بڑے بڑے پر پھیلائے ہوا میں بلند ہو تے تو گھوڑا بدکنے لگتا۔ سڑک، چاندنی اور اوس میں بھیگتے چھدرے جنگل میں گم ہو رہی تھی۔ گیلا اور روشن چاند درختوں کی ٹنڈ منڈ شاخوں میں سے پل بھر کو جھلک دکھاتا تو یہ ننگی شاخیں گویا اس کی خنک روشنی میں مدغم ہو جاتیں۔ پگڈنڈیوں پر مردہ پتوں اور بید مجنوں کی چھال کی تلخ بو پھیلی ہوئی تھی ...... کبھی چراگاہوں کی لا متناہی ڈھلانیں آتیں تو کبھی اوس زدہ جھاڑیوں میں سے گزرتے ہوئے گھوڑے کے نتھنوں سے سفید بھاپ نکلنے لگی۔ سموں کے نیچے آ کر ٹوٹتی شاخوں کی بازگشت پہاڑی ڈھلان پر اُگے کشیدہ قامت درختوں میں دور تک جاتی تھی ...... اچانک گھوڑے نے کٹوتیاں کھڑی کر لیں۔ چراگاہ کی زرد دھند میں پتلی پتلی ٹانگوں اور گردنوں والے دو موٹے تازے بھیڑیے کھڑے تھے۔ وہ چپکے کھڑے سٹریش نیف کے گھوڑے کو قریب آتا دیکھتے رہے اور پھر چھلانگ لگا کر کہرے سے چمکتی گھاس میں غائب ہو گئے۔

    ’’اور اگر وہ ایک دن مزید رک جائے تو ......‘‘ سٹریش نیف نے سر اٹھا کر چاند کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا۔

    چاند، برف سے ڈھکی ویران چراگاہوں کے عین اوپر گویا لٹک رہا تھا۔ خزاں کا حسن بہت غم آگیں ہوتا ہے۔

    گھوڑا پوری قوت صرف کرکے خشک برساتی ندیوں کے کٹاؤ سے لمبے، گھنے درختوں کی طرف چڑھائی کر رہا تھا۔ زین کا چوبی   چوکھٹا چراچرانے لگا۔ یکایک گھوڑے کے قدم لڑکھڑائے اور وہ ڈھلان سے گرتے گرتے بچا۔ غصے میں سٹریش نیف کے خدوخال بگڑ گئے۔ اس نے چابک گھما کر پورے زور سے گھوڑے کے سر پر مارا ’’او بڈھے کتے!‘‘ اس کی غصیلی چنگھاڑ جنگل میں دور تک گونجا کی۔

    جنگل سے آگے بے آب و گیاہ کھیت پھیلے ہوئے تھے۔ پہاڑی کے دامن میں دور دور تک گندم کے سیاہ ٹھنٹھ نظر آرہے تھے۔ ان کے بیچ ایک مفلوک الحال سا تعلقہ تھا۔ چھٹکی ہوئی چاندنی میں چھپر کا مکان اور چند ملحقہ کمرے اور بھی ویران لگ رہے تھے۔ سٹریش نیف رک گیا۔ لگتا تھا اسے بہت دیر ہو چکی تھی۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ وہ گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے صحن میں داخل ہو گیا۔ مکان میں بالکل اندھیرا تھا۔ سٹریش نیف اچھل کر گھوڑے سے نیچے اترا۔ گھوڑا سر نہوڑائے کھڑا رہا۔ احاطے میں ایک بوڑھا سا کتا ٹانگوں پر تھوتھنی رکھے پڑا تھا۔ حرکت کیے بغیر اس نے سٹریش نیف کی طرف دیکھا اور ابرو اٹھا کر اپنی دم زمین پر مارنے لگا جیسے مہمان کا سواگت کر رہا ہو۔ سٹریش نیف ڈیوڑھی کی طرف بڑھا۔ سارے میں بیت الخلا سے آتی ناگوار سی بو پھیلی ہوئی تھی۔ سامنے والے کمرے سے مدھم روشنی چھن رہی تھی، جس میں کھڑکیوں کے کہر آلود شیشے سنہرے ہو رہے تھے۔

    شب خوابی کا مہین لباس پہنے ایک چھوٹی سی عورت بے آواز قدموں سے دوڑتی ہوئی اندھیرے کمرے میں آئی۔ سٹریش نیف اس کی طرف جھکا ۔ اس نے اپنے عریاں بازو سٹریش نیف کی دبلی سی گردن میں حمائل کر دیے اور اس کے کوٹ سے سر ٹکائے خوشی سے ہولے ہولے سسکتی رہی۔ وہ اس کی بچوں جیسی دھڑکن سن رہا تھا۔ اس کے سینے پر آویزاں چھوٹی سی طلائی صلیب کو محسوس کر سکتا تھا۔ یہ صلیب اس کی دادی کی نشانی تھی اور اس کا بچ رہنے والا واحد اثاثہ تھی۔

    ’’تم کل تک ٹھہرو گے ۔ ٹھہرو گے نا؟‘‘ وہ سرگوشی میں پوچھ رہی تھی۔ ’’اف، تمہیں اپنے سامنے پا کر بھی مجھے یقین نہیں آتا۔‘‘

    ’’ویرا، میں جا کر گھوڑے کو باندھ آؤں۔‘‘ سٹریش نیف نے خود کو علیحدہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’کل تک ۔ کل تک۔‘‘ اس نے دہرایا اور سوچنے لگا۔ ’’خدایا! یہ تو روز بروز دیوانی ہو رہی ہے۔ تمباکو نوشی بھی زیادہ کر رہی ہے اور ہم آغوشیوں میں کیسی بے تابی آگئی ہے۔‘‘

    ویرا کا خوبصورت چہرہ پاؤڈر سے مخملیں ہو رہا تھا اور پھر اپنے نرم ہونٹ بڑی مضبوطی سے اس کے ہونٹو ں پر رکھ دیے۔ صلیب اس کے عریاں سینے پر چمکتی رہی۔ اس کا شب خوابی کا گاؤن بے حد مہین تھا۔ دراصل اس کے پاس یہی ایک گاؤن باقی تھا جسے اس نے خاص خاص موقعوں کے لیے رکھ چھوڑا تھا۔

    ’’مجھے کیسا یقین تھا!‘‘ سٹریش نیف نے ویرا کی نوجوانی کے دن یاد کرنے کی کوشش کی۔ ’’مجھے کتنا پختہ یقین تھا کہ میں ویرا سے صرف ایک ملاقات کے عوض بغیر ہچکچائے اپنی عمر کے پندرہ سا ل قربان کر سکتاتھا۔‘‘

    ٭٭٭

    پو پھٹ رہی تھی۔ پلنگ کے قریب ہی فرش پر موم بتی جل رہی تھی۔ سٹریش چھت کی طرف منہ کیے چت لیٹا تھا۔ قمیص کا گریبان کھلا تھا، بازو سر سے اوپر پھیلے ہوئے تھے، اس کی خمیدہ ناک دیوار کی طرف مڑی ہوئی تھی۔ پاس ہی ویرا گھٹنوں پر کہنیاں ٹکائے بیٹھی تھی۔ روتے رہنے سے اس کی آنکھیں سرخ اور متورم ہو رہی تھیں۔ سگریٹ پیتے ہوئے وہ بے رنگ نظروں سے فرش کو گھور رہی تھی۔ اس نے ایک ٹانگ دوسری پر رکھنا چاہی تو اس کی نظر اپنے ننھے سے پاؤں پر پڑی جو قیمتی اور خوشنما جوتے میں بڑا بھلا معلوم ہوتا تھا، مگر اس کے دل میں اٹھنے والا درد ہر چیز کو اپنے اندر ڈبوئے دے رہا تھا۔

    ’’میں نے تمہارے لیے سب کچھ گنوا دیا۔‘‘ وہ آہستہ سے بولی۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ اس کی آواز میں بلا کی نرمی اور بچوں جیسا احساسِ زیاں تھا، مگر سٹریش نیف نے آنکھیں کھولتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھا:

    ’’تم نے کیا گنوایا؟‘‘

    ’’سب کچھ۔ ہر چیز گنوا دی۔ سب سے بڑھ کر اپنی عزت، اپنی جوانی۔‘‘

    ’’تم اور میں ایسے جوان بھی نہیں رہے۔‘‘

    ’’کیسے سنگدل ہو رہے ہو۔ تم مجھے بالکل نہیں سمجھ پائے۔‘‘ وہ نرمی سے بولی۔

    ’’دنیا بھر کی عورتیں یہی کہتی ہیں۔ یہ ان کا پسندیدہ لفظ ہے جسے وہ مختلف لہجوں میں ادا کرتی ہیں۔ پہلے ترنگ میں آ کر کہتی ہیں: ’’تم کتنے ذہین ہو۔ مجھے کتنی اچھی طرح سمجھتے ہو۔‘‘ اور پھر ’’کیسے سنگدل ہو رہے ہو۔ تم مجھے بالکل نہیں سمجھ پائے۔‘‘

    ہولے ہولے روتے ہوئے وہ بولتی گئی جیسے کچھ سن نہ رہی ہو: ’’مانا کہ میں ناکام ہو چکی ...... مگر میں نے ہمیشہ موسیقی سے محبت کی ہے اور مجھے اب بھی موسیقی سے عشق ہے۔ اگر زیادہ نہیں تو میں نے کچھ نہ کچھ کامیابی تو حاصل کر لی ہو تی۔‘‘

    ’’مگر موسیقی کا اس سے کیا تعلق؟ جس لمحے پیڈرسکی......‘‘

    ’’آندرئی۔ میری جان۔ ایسا مت کہو...... اور اب مجھے بورڈنگ سکول میں ڈانس کی کلاسوں کے لیے پیانو بجاتا پڑتا ہے اور وہ بھی اس منحوس شہر میں جس سے مجھے ہمیشہ نفرت رہی۔ پھر بھی مجھے کوئی نہ کوئی مل جاتا جو میرا ہاتھ تھام لیتا۔ مجھے پیار اور احترام دیتا۔ میرا گھر ہوتا۔ بچے ہوتے ، مگر ہمارے پیار کی یادوں ......‘‘

    سٹریش نیف نے سگریٹ سلگایا اور آہستہ آہستہ بولنا شروع کیا جیسے ایک ایک لفظ تول رہا ہو:’’ویرا، ہم خاندانی لوگوں کے لیے محبت کرنا بچوں کا کھیل نہیں ہوتا۔ ہماری زندگیاں زہر آلود ہو جاتی ہیں۔ اس محبت نے تمہیں نہیں مجھے برباد کیا، پندرہ سولہ برس پہلے میں ہر روز یہاں آتا تھا۔ تمہاری دہلیز پر رات بسر کرنا میں اپنے لیے اعزاز سمجھتا تھا۔ لڑکا ہی تو تھا۔ جذباتی اور بے وقوف۔‘‘

    سگریٹ بجھ چکا تھا۔ اس نے بازو گھما کر اسے دور پھینکا اور بازو چارپائی پر ڈال کر چھت کو گھورنے لگا:’’ ہمارے باپ دادا   کی محبتوں کے افسانے، سنہری چوکھٹوں میں جڑی ہوئی بیضوی تصویریں، خاندان کی روحانی پیشواؤں کی قلمی تصویریں، سب کچھ ہمارا ورثہ تھا۔ تمہیں یاد ہے ان دنوں میں شاعری بھی کیا کرتا تھا:

     تمہیں پیار کرتے ہوئے،

    میں خواب دیکھتا ہوں، خواب دیکھنے والوں کے

    ان کے جنہوں نے سو برس پہلے اس زمین پر محبت کی،

    ان تاروں کی چھاؤں میں،

    جو کبھی ان کے لیے چمکتے تھے،

    میں تمہاری ہی سوچوں میں بھٹکتا پھرتا ہوں

    اس نے ویرا پر ایک نظر ڈالی۔ اس کا لہجہ سخت ہوتا گیا۔

    ’’آخر تم کیوں چلی گئیں اور گئیں بھی کس کے ساتھ۔ کیا وہ تمہارے قبیلے سے تھا؟ تمہارا اور اس کاکیا میل تھا؟‘‘ وہ اٹھ بیٹھا اور غضب ناک آنکھیں ویرا کے خشک سیاہ بالوں پر گاڑ دیں۔ ’’میں نے ہمیشہ تمہیں اپنی سوچوں میں بھی احترام دیا کہ تم میری ہونے والی بیوی تھیں اور جب قسمت نے ہمیں ایک ہونے کا موقع دیا تو تم میرے لیے کیا بن چکی تھیں؟ میری بیوی؟ تب ہمارے پاس جوانی بھی تھی، صحت بھی اور معصومیت بھی۔ وہ تمہارے چہرے پر آتے گہرے رنگ، تمہاری ململ کی نفیس قمیص ...... تمہیں معلوم ہے ہر روز تمہیں ملنے آنا میرے لیے کیا معنی رکھتا تھا۔ تمہارے شوخ لباس، دھوپ میں سنولائے ہوئے تمہارے ننگے بازو اور چمکتی ہوئی تاتاری آنکھیں ...... اور تم میری طرف دیکھنے سے گھبراتی تھیں۔ تمہارے سیاہ بالوں میں اٹکا ہوا زرد گلاب اور تمہاری مسکراہٹ...... کچھ حیران، کچھ احمقانہ سی مسکراہٹ مگر اس پر کیسا پیار آتا تھا۔ پھر ایسا ہوا کہ تم کسی اور کے بارے میں سوچتی ہوئی باغ کی روشوں پر دور نکل جاتیں۔ کروکے کھیلتے ہوئے یہ ظاہر کرتیں کہ تم واقعی کھیل میں دلچسپی لے رہی ہو۔ جب تمہاری اماں نے میری بے عزتی کی تو تم دریچے میں کھڑی سب سن رہی تھیں۔ ویرا یہ سب کچھ میرے لیے ......‘‘

    ’’یہ سب اماں کا ہی کیا دھرا ہے۔‘‘ ویرا نے بڑی دقت سے کہا۔

    ’’نہیں۔ تمہیں یاد ہے جب تم پہلی بار ماسکو گئیں۔ سامان باندھتے ہوئے تم میری طرف دیکھے بغیر گنگنا رہی تھیں۔ تم اپنے خوابوں میں ایسی مگن ہو رہی تھیں اور تمہیں آنے والی خوشیوں کا ایسا یقین ہو رہا تھا۔ یخ بستہ شام میں تمہیں خداحافظ کہنے کے لیے میں نے گھوڑے پر سفر کیا۔ گھا س کے سبز میدان اور ٹھنٹھوں سے بھرے ہوئے کھیت اور پھر تمہاری گاڑی کی کھڑکی کا پردہ ......اف خدایا‘‘ اس کی آواز کی تلخی میں آنسو گھل رہے تھے۔ اس نے تکیے پر سر رکھ دیا۔ ’’تم نے ہاتھوں پر خوشبو لگا رکھی تھی جو میرے ہاتھوں میں بھی چلی آئی۔ واپس آتے ہوئے میں گھوڑے کے پسینے اور زین کے چمڑے کی بو میں بس گیا ، مگر وہ خوشبو تھی کہ میرے نتھنوں میں چلی آتی تھی۔ میں جھٹپٹے میں بڑی سڑک پر سفر کرتا رہا اور میرے آنسو گرتے چلے گئے ...... میں کہتا ہوں اگر کسی نے قربانی دی ہے ، اگر کسی نے پوری زندگی تباہ کی ہے تو وہ میں ہوں۔ بوڑھا شرابی!‘‘

    گالوں اور مونچھوں سے بہتے آنسوؤں کا نمکین ذائقہ سٹریش نیف کے ہونٹوں پر محسوس ہو رہا تھا۔ وہ پلنگ سے اتر آیا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔

    چاند ڈوب رہا تھا۔ برف کے سفید گالے پہاڑی کے دامن میں پھیلے ہوئے کھیتوں میں اٹکے ہوئے تھے۔ افق کے آخری کنارے پر ارغوانی پو پھوٹ رہی تھی۔ بہت دور کجلائے ہوئے سرد جنگل میں مرغ بانگ دے رہا تھا۔

    سٹریش نیف احاطے کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا۔ خنکی باریک سی قمیص کو چیرتی ہوئی نکل رہی تھی۔

    ’’اور پھر ...... ہمارے کردار بدل گئے۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔‘‘ اس نے بڑی آہستگی سے تاسف کیا۔ ’’خیر اس سے کیا فرق پڑتا ہے اب تو سب کچھ ختم ہو چکا ۔‘‘

    ٭٭٭

    صبح کی چائے یخ بستہ کمرے کی بڑی سی میز پر رکھ دی گئی۔ داغدار سماوار کو سبز غلاف سے ڈھانپا گیا تھا۔ سماوار کے نیچے آگ کب کی بجھ چکی تھی۔ کھڑکیوں کے شیشوں پر اٹکے کہر کے قطرے غائب ہو چکے تھے۔ کمرے میں بیٹھے ہوئے برفانی صبح کا روشن سورج اور بچی کھچی پژمردہ گھاس پر کھڑا ایک ٹیڑھا میڑھا پیڑ نظر آتا تھا۔ خواب آلود چہرہ لیے سرخ بالوں والی خادمہ ننگے پاؤں کمرے میں آئی اور متری کے پہنچنے کی اطلاع دی۔

    ’’وہ انتظار کر سکتا ہے۔‘‘ سٹریش نیف نے نظریں اٹھائے بغیر جواب دیا۔   ویرا بھی سر جھکائے بیٹھی رہی۔ رات بھر میں اس کا منہ ذرا سا نکل آیا۔ آنکھوں کے گرد گہرے حلقے پڑ گئے تھے۔ سیاہ   بال گلابی غازے کو حلقہ کیے ہوئے تھے۔ سٹریش نیف کا دبلا پتلا اور کرخت چہرہ کسی لاش کے مانند پیلا ہو رہا تھا۔ اس کا منہ ہوا میں اٹھا ہوا تھا اور جھاڑ جھنکاڑ داڑھی میں سے گلے کا ابھرا ہوا کنٹھا نظر آتا تھا۔

    سورج ابھی پوری طرح اوپر نہیں آیا تھا، مگر اس کی روشن آنکھیں چندھیا رہی تھی۔ سامنے کا احاطہ رات کی برف سے سفید ہو رہا تھا جو نمک کی طرح گھاس اور گوبھی کے سبزی مائل نیلے پتوں پر چھڑکی ہوئی تھی۔ سیسے جیسی آنکھوں والا جو بھوسے سے بھرا ہواچھکڑا لیے احاطے میں آیا تھا، چھکڑے کے گرد چکر لگا کر بھوسے کو ہاتھوں سے دبا رہا تھا۔اس نے دانتوں میں پائپ دبا رکھا تھا اور دھوئیں کا چھلا سا اس کے کندھوں سے پیچھے اڑتا جا رہا تھا۔ ویراسمور کا کوٹ پہنے ہوئے احاطے میں آئی۔ پرانی طرز کا یہ کوٹ کبھی قیمتی رہا ہو گا، اب تو بالکل خستہ ہو رہا تھا۔ وہ سر پر سیاہ تنکوں سے بنا ہوا موسم گرما کا ہیٹ رکھے ہوئے تھی جس پر ٹانکے گئے تلے کے پھول جگہ جگہ سے بدرنگ ہو چکے تھے۔

    سٹریش نیف انہیں بڑی سڑک تک چھوڑنے گیا۔ اس کا گھوڑے چھکڑے کے پیچھے پیچھے ان راستوں پر چلتا گیا جہاں برف پگھل چکی تھی۔ اچانک گھوڑا منہ پھیر کر ویرا کے تنکوں والے ہیٹ کی طرف ہمکا۔ سٹریش نیف نے چابک گھما کر اس کے ناک پر مارا۔ گھوڑا سر پٹخنے اور زور زور سے ہنہنائے لگا۔ وہ خاموشی سے سفر کرتے رہے۔ بوڑھا کتا گھر ہی سے ساتھ ساتھ چلا آرہا تھا۔ صاف اور نیلے آسمان پر چمکتے سورج میں حدت تھی۔ بڑی سڑک کے قریب کوچوان اچانک ویرا سے مخاطب ہوا:

    ’’میں اگلی گرمیوں میں پھر اپنا چھوٹا کتا آپ کے ہاں بھیج دوں گا۔ میرا خیال ہے وہ بھیڑیں چرانے میں آپ کی مدد کرسکے گا۔‘‘

    ویرا نے شرما کر سٹریش نیف کی طرف دیکھا۔ سٹیریش نیف نے اپنا ہیٹ اتار ا اور گھوڑے سے جھک کر ویرا کے ہاتھ پر ایک طویل بوسہ دیا۔ اس کے ہونٹ سٹریش نیف کی سفید ہوتی کنپٹیوں کے پاس کپکپا رہے تھے۔ وہ ہولے سے بولی: ’’اپنا خیال رکھنا میری جان اور میرے بارے میں بدگمانی نہ رکھنا۔‘‘

    بڑی سڑک پر پہنچ کر کوچوان نے رفتار بدل دی اور کھڑکھڑاتا ہوا چھکڑا نظروں سے اوجھل ہونے لگا۔ سٹریش نیف نے گھوڑا موڑا اور سمت کا تعین کیے بغیر کھیتوں میں چلتا گیا۔ ایک فاصلے پر کتا بھی پیچھے پیچھے آرہا تھا۔ سٹریش نیف رک کر کتے پر اچانک چابک لہراتا تو وہ پچھلی ٹانگوں پر بیٹھ جاتا جیسے کہہ رہا ہو:’’آخر میں کہاں جاؤں؟‘‘ سٹریش نیف گھوڑا بڑھاتا تو کتا پھر پیچھا شروع کر دیتا۔ سٹریش نیف کے خیالات بہت دور ریلوے اسٹیشن ، اس کی چمکتی ہوئی پٹڑیوں اور دھواں اگلتی ، جنوب کی طرف بھاگتی گاڑیوں پر مرکوز تھے۔

    وہ ویران کھیتوں اور گرم چٹانوں کے درمیان چلتا رہا۔ نیلے آسمان کے نیچے خزاں کا روشن دن بالکل خاموش تھا۔ ننگے کھیتوں، خشک برساتی نالوں اور تا حد نظر پھیلے ہوئے میدانوں میں ایک بھی آواز باقی نہیں تھی۔ جھاڑیوں سے اڑنے والی بڈھیاں ہوا میں تیر رہی تھیں۔ پرندے جھاڑیوں میں بیٹھے تھے۔ انہیں سارا دن یہیں گزارنا تھا۔ بس کبھی اڑتے اور ایک شاخ سے دوسری شاخ پر بیٹھے، خاموش اور خوشیوں بھری زندگی کے تسلسل میں!