رابندر ناتھ ٹیگور

رابندر ناتھ ٹیگور

سزا

    انگریزی ترجمہ، کلپنا بردھن: اردو ترجمہ، مسعود اشعر

    دکھی رام روئی اور چھیدام روئی دونوں بھائی تھے۔ وہ کھیتوں پر مزدوری کرکے روزی کماتے تھے۔ سویرے سویرےجب وہ درانتی پھاوڑا اٹھائے کام پر جا رہے تھے تو ان دونوں کی بیویاں روزانہ کی طرح اس دن بھی ایک دوسرے کے ساتھ الجھی ہوئی تھیں۔ ہر روز کی طرح اس دن بھی ان کی تو تو میں میں نے سارا گھر سر پر اٹھا رکھا تھا۔ دیورانی جٹھانی کی یہ جو تم پیزار پڑوسی بھی خوب جان گئے تھے۔ ان کے لیے یہ ہر روز کا کھیل تھا۔ اس گھر سے چیخنے چلانے کی جب بھی آواز آتی ان کی زبان سے ایک ہی با ت نکلتی ’’لو، پھر ناٹک شروع ہو گیا۔‘‘ دیورانی جٹھانی کی یہ توتکار شروع ہوتی تو کسی کو یہ معلو م کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی کہ جھگڑا کس بات پر شروع ہوا ہے۔ پڑوسیوں کے لیے یہ ایسا ہی تھا جیسے ہر صبح پورب سے سورج کا نکلنا۔

    لیکن اس دفعہ کسی کے سان  گمان میں بھی نہیں تھا کہ روز روز کی یہ چخ چخ اچانک اتنی بھیانک شکل اختیار کر لے گی۔

    دونوں عورتوں کی دانتا کل کل سے پڑوسی تو پریشان نہیں تھے لیکن ان دونوں کے پتی اس سے ضرور پریشان رہے تھے۔ البتہ انہوں نے اپنے درمیان اس جھگڑے کو نہیں آنے دیا تھا۔ انہوں نے اسے اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ سمجھ کر قبول کر لیا تھا۔ ان کے لیے یہ ایسا ہی تھا جیسے وہ بے لگام گھوڑے کی ایک ایسی گاڑی میں بیٹھے جا رہے ہوں جس کا انجر پنجر ڈھیلا ہو چکا ہو اور وہ کھڑکھڑاتی چلی جا رہی ہو۔ جیسے کوئی ان دیکھی اور انجانی قوت بے لگام گھوڑے کو دوڑائے چلی جا رہی ہو۔ اب تو یہ حالت ہو گئی تھی کہ اگر کسی دن ان کے گھر میں یہ جنگ نہ ہوتی تو انہیں حیرت ہوتی۔ اس وقت غیر معمولی خاموشی اور سکون انہیں زیادہ خطرناک محسوس ہوتا۔ لگتا جیسے کوئی بہت ہی خوفناک طوفان آنے والا ہے۔ ایسی تکلیف دہ خاموشی انہیں زیادہ ڈراتی، وہ ڈرتے کہ بھگوان جانے کیا ہلچل مچنے والی ہے۔

    پھر وہ منحوس دن آگیا ۔ اس شام دونوں بھائی تھکے ہارے اور ہر روز سے بھی زیادہ بیزار گھر پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ ایسا اکتا دینے والا سناٹا جو بول رہا تھا۔

    باہر بھی کچھ ایسا ہی سماں تھا۔ سارا ماحول جیسے سانس روکے کھڑا تھا۔ دوپہر میں تھوڑی سی بارش ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے آسمان کالے بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اور کسی وقت بھی بادلوں کے ٹوٹ پڑنے کا خطرہ تھا۔ ہوا بالکل بند تھی ۔ انہوں نے دیکھا کہ برسات میں اگنے والی گھاس اور جڑی بوٹیوں نے ان کے گھر پر بھی دھاوا بول رکھا ہے۔ بارش میں بھیگی گھاس اور پانی میں ڈوبے دھان کے کھیتوں سے اٹھنے والا امس ان کے چاروں طرف ایک ان دیکھی دیوار سا بنا کھڑا ہے۔ جانوروں کے باڑے کے پیچھے کھڑے پانی میں مینڈکوں اور جھینگروں نے جو نہ ختم ہونے والا راگ شروع کر رکھا تھا وہ کالی گھٹاؤں سے لدے آسمان کے نیچے ساری فضا پر سیاہ چادر کی طرح چھایا ہوا تھا۔ وہاں سے تھوڑی دور پدماندی بھی اداسی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ کالی گھنگھور گھٹاؤں نے اس پر بھی اپنا منحوس سایہ ڈال رکھا تھا۔ سیلاب میں ابلتے پدما کے پانی نے کناروں سے نکل کر پہلے ہی فصلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اور وہ پانی گاؤں کی طرف بڑھ رہا تھا۔ گاؤں کے آس پاس آم اور کٹھل کے پیڑ اس طغیانی میں بہہ چکے تھے اور ان کی جڑیں آسمان کی طرف سر اٹھائے ایسے کھڑی تھیں جیسے انسانی ہاتھ سہارا تلاش کر رہے ہوں۔

    دکھی رام اور چھیدام نے اس دن کھیت کے بجائے زمیندار کے ڈیرے پر کام کیا تھا۔ زمیندار کا ڈیرہ ندی کے پار ایک ٹاپو پر تھا جہاں سیلاب نے ندی کی تہہ سے مٹی نکال کر جزیرہ سا بنا دیا تھا۔ پکے دھان کے کھیت وہاں کسان کی درانتی کا انتظار کر رہے تھے۔ اس موسم میں بنگال کے اس علاقے کے لوگ دھان یا پٹ سن کے کھیتوں میں کام کرتے نظر آتے ہیں۔ کھیت مزدوروں کو فصل میں سے تھوڑا بہت مزدوری کے طور پر مل جاتا ہے، جس سے ان کا گزارا ہو جاتا ہے۔ لیکن اس دن زمیندار کے آدمی ان دونوں کو زمیندار کے ڈیرے پر لے گئے تھے۔ جہاں انہوں نے دن بھر دیواروں اور چھتوں کی مرمت کی تھی۔ اس کام کی اجرت بھی بہت کم ملتی تھی۔ اس دن انہیں اجرت بھی کم ملی تھی اور اس کے ساتھ ڈانٹ پھٹکار کی ذلت بھی اٹھانا پڑی تھی۔ سویرے تو انہیں کچھ کھانے کو مل گیا تھا۔ مگر شام تک انہوں نے بھوکے پیٹ ہی کام کیا تھا۔

    شام کو وہ کیچڑ پانی پھلانگتے گھر پہنچے تو وہاں انہوں نے عجب تماشا دیکھا۔ چھوٹی بہو چندرا زمین پر دیوار کی طرف منہ کیے پڑی تھی اور اس نے ساڑی کا پلو اپنے اوپر چادر کی طرح ڈال رکھا تھا۔ دن بھر کی بارش کی طرح وہ بھی رو دھو کر آسمان پر چھائے بادلوں کی طرح چپ ہو کر پڑ رہی تھی۔ بری بہو رھانسا منہ بنائے دیوار کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔ اس کا ڈیڑھ سال کا بچہ روتے روتے سو گیا تھا اور زمین پر ننگا پڑا تھا۔

    دکھی رام کو زور کی بھوک لگی تھی۔ اس نے اپنی پتنی کو اس طرح گم سم بیٹھے دیکھا تو جھنجلا کر کہا: ’’بڑی بھوک لگی ہے ، جلدی سے بھات لے آ۔‘‘ رادھا اس کا جواب دینے کے بجائے الٹا اس کے پیچھے پڑ گئی۔ ’’کہاں سے لاؤں بھات، تو دے گیا تھا مجھے بھات جو پکا کر لاؤں؟اب میں باہر جا کر کماؤں گی اور تمہیں کھلاؤں گی۔‘‘

    دکھی رام  دن بھر زمیندار کی گالیاں سنتا رہا تھا اور بھوکا پیاسا تھکا ہارا گھر لوٹا تھا۔ پتنی کی یہ بدتمیزی سن کر آگ بگولا ہو گیا۔ رادھا نے کمائی کا جو طعنہ دیا تھا وہ اس کے لیے بالکل ہی ناقابل برداشت تھا۔ وہ زخمی شیر کی طرح دھاڑا۔ ’’کیا کہا تو نے؟‘‘ اور یہ کہہ کر رادھا کے سر پر پوری طاقت سے درانتی دے ماری۔ اس وقت وہ سوچ بھی نہیں سکا کہ کیا کر رہا ہے۔ درانتی رادھا کے سر پر پڑ چکی تھی۔

    رادھا ایک ہی وارمیں ڈھے گئی اور اس کا بے جان جسم سوئی ہوئی چندرا کے پیروں کی طرف لڑھک گیا۔ اس کے سر سے نکلتا خون چندرا کی ساڑی کو بھی لال کرنے لگا۔ چندرا چیخی۔ ’’یہ تو نے کیا کیا‘‘ مگر قبل اس کے کہ وہ کچھ اور بولتی چھیدام نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ دکھی رام کے ہاتھ سے درانتی چھوٹ گئی اور وہ بے سدھ ہو کر زمین پر گرگیا۔ بچہ بھی ڈر کر اٹھ گیا اور زور زور سے رونے لگا۔

    اس وقت سارے گاؤں میں سناٹا تھا۔ ہر سمت شام کی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ گائیں چرانے والے لڑکے اپنے مویشی ہنکال کر گھروں کی طرف آ رہے تھے۔ جو لوگ ندی کے پار ٹاپوں پر کھیت کاٹنے گئے تھے وہ ناؤ پر بیٹھے واپس لوٹ رہے تھے۔ کچھ لوگ اپنے سروں پر سنہری دھان کے گٹھے اٹھائے گھر پہنچ چکے تھے۔ یہ گٹھے ہی ان کی دن بھر کی کمائی تھی۔

    چکر برتی گھرانے کے جگت چاچا رام لوچن اسی وقت گاؤں کے ڈاک خانے میں خط ڈال کر لوٹے تھے اور آرام سے بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ انہیں یاد آیا کہ دکھی رام نے ان کا کرایہ نہیں دیا ہے۔ اس نے آج کا وعدہ کیا تھا۔ یہ سوچ کر انہوں نے اپنا چھاتہ اور انگوچھا اٹھایا کہ اب تک دونوں بھائی گھر آگئے ہوں گے اور وہ ان کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔

    جگت چاچا دکھی رام کے گھر کے پاس پہنچے تو انہیں کچھ عجیب عجیب سا محسوس ہوا۔ اندھیرا چھا گیا تھا لیکن ابھی تک دیا نہیں جلا تھا۔ سامنے انہیں کچھ سائے سے نظر آئے۔ ایک عورت کے سسکیاں لینے کی آواز بھی آئی۔ بچہ بھی بلک بلک کر رو رہا تھا۔ اور ماں ماں پکار رہا تھا۔ چھیدام اسے چپ کرانے کی کوشش کر رہا تھا۔ جگت چاچا آگے بڑھے اور آواز لگائی۔ ’’دکھی رام...... گھر پر ہو؟‘‘

    دکھی رام اب تک بت بنا گم سم بیٹھا تھا۔ یہ آواز سنی تو بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ چھیدام نے جلدی سے چھلانگ لگائی اور بن بلائے مہمان کے پاس پہنچ گیا۔ چاچا نے اس کے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کی ...... ’’تمہاری پتنیوں نے پھر کوئی طوفان کھڑا کر دیا ہے؟ سارا دن ہم ان کی چخ چخ سنتے رہتے ہیں۔‘‘

    چھیدام اب تک اس بھیانک واقعہ سے سب کو بچانے کے لیے طرح طرح کی ترکیبیں سوچتا رہا تھا۔ لیکن ابھی تک وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پایا تھا۔ ابھی تک اس کے دماغ میں ایک ہی بات آئی تھی کہ رات کو کسی وقت لاش کو کہیں لے جا کر ٹھکانے لگا دیا جائے۔ اسے خیال بھی نہیں تھا کہ اس وقت بھی کوئی اس کے گھر آسکتا ہے۔ چاچا کو اس نے اپنے سامنے کھڑا دیکھا تو وہ سب کچھ بھول گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس آدمی سے کیسے چھپایا جائے۔ گھبراہٹ میں اس کے منہ سے نکلا ’’ہاں، آج ان میں بہت لڑائی ہوئی ہے۔‘‘

    چاچا نے چھیدام کا یہ گول مول سا جواب سنا تو ان کا تجسس اور بھی بڑھ گیا۔ وہ اپنے آنے کی اصل وجہ بھول گیا تھا۔ وہ اندھیرے میں اور آگے بڑھا۔ ’’مگر ...... دکھی رام ایسے کیوں رو رہا ہے؟‘‘

    اب چھیدام کے سامنے کوئی راستہ نہیں تھا ۔ خوف اور گھبراہٹ میں بولا ’’لڑائی میں میری پتنی نے بھابی کے چھری مار دی......‘‘

    کبھی کبھی وقتی پریشانی انسانی دماغ کو ایسا ماؤف کر دیتی ہے کہ بعد میں پیش آنے والے اس سے بھی زیادہ بھیانک واقعات اس کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ اس وقت چھیدام کے دماغ میں صرف ایک ہی بات تھی۔ اصل واقعہ کو کس طرح چھپایا جائے۔ اسے ایک پل کو بھی یہ خیال نہیں آیا کہ اس کا یہ جھوٹ اس سے بھی زیادہ خطرناک حقیقت بن سکتا ہے۔ چاچا کے شک و شبہ سے بھرے سوالوں سے وہ ایسا گھبرایا کہ اس کی عقل میں صرف ایک ہی کہانی آئی۔ ایسی کہانی جس پر وہ خود بھی وشواش کر سکتا تھا۔

    چاچا نے گھبرا کر پوچھا ’’وہ مرگئی؟‘‘ چھیدام نے کہا ’’ہاں، وہ مر گئی۔‘‘ اور اس کے ساتھ ہی وہ ان کے پیروں پر گر گیا۔ میری پتنی کو بچا لو، بھگوان کے لیے اسے بچا لو۔‘‘ اور وہ غلط بھی نہیں کہہ رہا تھا۔ سارا گاؤں جانتا تھا کہ چاچا ہی ایک ایسا انسان ہے جو تھانے کچہری کا ماہر ہے۔ چھیدام کا رونا پیٹنا کام آیا اور چاچا نے کچھ سوچ کر جواب دیا ’’بس ایک ہی طریقہ ہے۔ تو فوراً تھانے چلا جا اور وہاں یہ رپٹ لکھا دے کہ میرا بھائی بھوکا پیاسا گھر آیا تو اس نے اپنی پتنی سے کھانے کو مانگا۔ پتنی نے انکار کیا تو اسے غصہ آگیا اور اس نے اس کے سر پر درانتی مار دی۔ اس طرح تیری پتنی بچ جائے گی۔‘‘

    چھیدام نے یہ سنا تو اسے لگا جیسے اس کا حلق خشک ہو گیا ہے۔ اس نے غور سے چاچا کی طرف دیکھا اور کھڑا ہو گیا۔ اب وہ سوچ سوچ کر بول رہا تھا۔ ’’مہاراج، دوسری پتنی تو مل سکتی ہے، دوسرا بھائی نہیں مل سکتا ......‘‘ جب اس نے پہلا جھوٹ بولا تھا تو اس وقت یہ بات اس کے دماغ میں بالکل نہیں آئی تھی۔ اس وقت ڈر اور گھبراہٹ میں جو بھی اس کے منہ میں آیا تھا کہہ دیا تھا۔ لیکن اب وہ اسے سچ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا، بلکہ اب اس نقصان پر بھی اپنے آپ کو تسلی دے رہا تھا جو اس جھوٹ سے اسے پہنچ سکتا تھا۔

    جگت چاچا قانون بھی جانتے تھے۔ اس لیے انہوں نے یہ بات مان لی۔ وہ بولے ’’ٹھیک ہے، تو پھر تو تھانے جا اور سچی سچی بات بتا دے۔ ظاہر ہے تو دونوں کو نہیں بچا سکتا۔‘‘ یہ کہہ کر چاچا جلدی جلدی وہاں سے روانہ ہو گئے۔

    تھوڑی ہی دیر میں یہ بات سارے گاؤں میں پھیل گئی کہ چھیدام کی پتنی نے غصے میں اپنی جٹھانی کو مار ڈالا۔ دوسرے دن پولیس بھی آگئی۔ گاؤں میں پولیس کا آنا بہت بڑا واقعہ ہوتا ہے۔ جیسے آسمان سے بجلی کا گرنا۔

    چھیدام نے محسوس کیا کہ اب اس کے سامنے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس کے منہ سے جو نکل چکا ہے اس نے اسے دبوچ لیا ہے۔ اس نے چاچا رام لوچن کے سامنے جو جھوٹ بولا تھا وہ سارے گاؤں کے لیے سچ بن چکا تھا۔ اگر اب وہ اس بات سے پھرے گا تو نہ جانے اس کا کیا نتیجہ ہو گا۔ اب اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس بات پر اڑا رہے اور ایسی ترکیب سوچے جس سے اس کی پتنی کی سزا میں کمی ہو جائے۔ یہ سوچ کر وہ چندرا کے پاس گیا اور اسے سمجھایا کہ وہ یہ جرم مان لے۔ تھر تھر کانپتی لڑکی کو اس نے اپنی طرف سے پوری تسلی دلانے کی کوشش کی کہ وہ اسے سزا سے بچانے کی پوری کوشش کرے گا۔ لیکن جس وقت وہ اپنی پتنی کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا اس وقت خود اس کا اپنا حال یہ تھا کہ اس کی آواز حلق میں پھنس رہی تھی۔ اور اس کے چہرے سے خون نچڑتا جا رہا تھا۔

    چندرا گول مٹول سے چہرے اور گدرائے بدن والی اٹھارہ سال کی لڑکی تھی۔ اس کا بدن ایسا سڈول تھا کہ جب وہ اپنے صحت مند ہاتھ پاؤں چلاتی تو وہ انتہائی مہارت کے ساتھ تراشی ہوئی ناؤ لگتی، ایسی ناؤ جس کا ایک ایک حصہ نہایت خوبصورتی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا گیا ہو اور وہ ندی کی لہروں پر ہوا کی طرح بہی جا رہی ہو۔ اسے بلاوجہ ہی آس پاس کی ہر چیز خوش کر دیتی تھی۔ وہ بات بات پر کھل کھلا اٹھتی۔ جب وہ کولہے پر گاگر رکھے اور ساری کے پلو سے گھونگھٹ نکالے تالاب پر پانی بھرنے جاتی توہر عورت سے گھل مل کر بات ضرور کرتی۔ اس کی کالی بھنور اسی آنکھیں چھوٹی چھوٹی سی چیز کو بھی اپنی تیز نظروں میں بھر لیتیں۔

    اس کی جٹھانی اس کا بالکل الٹ تھی۔ وہ ہر کام میں پھوہڑ اور بدسلیقہ تھی۔ وہ تو اپنے سر پر ساری کا پلو تک ڈالنا بھول جاتی تھی۔ اسے گھر کے کام کاج یا اپنے بچے کی بھی کوئی پروا نہیں تھی۔ وہ غصے کی بھی تیز تھی۔ گھر میں کوئی کام نہ ہوتا تب بھی وہ تھکی تھکی نظر آتی جیسے سو کر اٹھی ہو۔ ان دونوں میں جھگڑا عام طور پر اس وقت ہوتا جب نوجوان دیورانی کسی بات پر چپکے سے کوئی طعنہ دیتی۔ اس پر وہ بھڑک اٹھتی اور کوسنا پیٹنا شروع کر دیتی۔ یہ روز کا معمول تھا۔ ان کے پڑوسی بھی اس کے عادی ہو چکے تھے۔

    ان دونوں کے پتی بھی ایک دوسرے سے الٹ طبیعت رکھتے تھے۔ دکھی رام لمبے چوڑے قد کاٹھ کا آدمی تھا لیکن بالکل سیدھا سادہ اور بدھو سا۔ اسے دیکھ کر لگتا کہ وہ بے ضرر سا آدمی ضرور ہے لیکن اس سے کوئی بھی خطرناک غلطی ہو سکتی ہے۔ اس کا قد کاٹھ تو بڑا تھا لیکن دیکھنے میں بے سہارا اور بے چارہ نظر آتا تھا۔ اس کے برعکس چھوٹے بھائی چھیدام کا بدن ایسا ترشا ہوا تھا جیسے کالا چمک دار پتھر۔ اس کے بدن پر کہیں بھی فالتو گوشت نہیں تھا اور نہ کہیں کوئی گڑھا تھا۔ اس کے ہاتھ پاؤں میں ایسی قوت اور ایسا توازن تھا کہ وہ جو کام بھی کرتا وہ خوبصورتی اور توازن کی تصویر بن جاتا۔ خاص طور سے جب وہ ندی کے سب سے اونچے کنارے سے پانی میں چھلانگ لگاتا یا لمبا بانس ندی میں ڈال کر ناؤ کو آہستہ آہستہ آگے بڑھاتا یا چھڑیاں کاٹنے کے لیے جب وہ اونچے ستواں بانس پر چڑھ جاتا تب وہ دیکھنے کے قابل ہوتا۔ وہ ہمیشہ اپنے لانبے بالوں میں خوب تیل ڈالتا اور کنگھی کرکے انہیں شانوں پر کھلا چھوڑ دیتا۔ اس کے عام کپڑوں میں بھی ایک سلیقہ ہوتا تھا۔ اس کے بارے میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اپنا خیال نہیں رکھتا۔

    وہ اس بات سے بھی بے خبر نہیں تھا کہ گاؤں کی الہڑ ناریاں اس کی طرف چوری چوری دیکھتی ہیں، لیکن وہ اپنی پتنی سے پیار کرتا تھا۔ ان میں لڑائیاں بھی ہوتیں اور پھر صلح بھی ہو جاتی۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا۔وہ دونوں ڈرتے تھے کہ کوئی ایک دوسرے کو چھوڑ کر نہ چلا جائے۔ ان میں جتنا پیار بڑھتا اتنا ہی یہ ڈر بھی بڑھتا جاتا۔ چھیدام اس الہڑ اور چلبلی لڑکی پر زیادہ بھروسا نہیں کر سکتا تھا۔ ادھر چندرا بھی سوچتی کہ اپنے پتی کی آوارہ نظروں کو قابو میں رکھنے کے لیے اسے زیادہ چھل کپٹ سے کام لینا چاہیے۔ اس لیے وہ اسے جلانے کی نئی نئی ترکیبیں سوچتی رہتی۔

    اس منحوس واقعہ سے کچھ عرصے پہلے بھی وہ دونوں ایک دوسرے پر شک کرنے اور ایک دوسرے کو جلانے کی فکر میں اپنی نیندیں حرام کر چکے تھے۔ وہ دیکھتی تھی کہ اس کا پتی کام کے بہانے گھر سے جاتا ہے اور دو دو دن واپس نہیں آتا۔ کوئی خاص کمائی کرکے بھی نہیں لاتا۔ اس پر وہ اسے جلانےکے لیے طرح طرح کی حرکتیں کرتی۔وہ بار بار پانی بھرنے تالاب چلی جاتی اور واپس آ کر الٹی سیدھی کہانیاں سناتی کہ فلاں زمیندار کے بیٹے نے اس سے کیا کہا، اور اس نے کیا کہا۔

    چھیدام ان حرکتوں سے بہت پریشان تھا۔ اس کو نیند بھی نہیں آتی تھی اور اپنے کام میں جی بھی نہیں لگتا تھا۔ اس کا کھیلنا اور تفریح کرنا بھی ختم ہو چکا تھا۔ اس نے ایک دن اپنی بھابی سے شکایت کی۔ ’’تو اپنی دیورانی کو بالکل نہیں ٹوکتی؟‘‘ اس پر اس کی بھابی پھٹ پڑی۔ ’’تو ٹوکنے کا کہہ رہا ہے۔ وہ تو ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتی ہے۔ میں بتائے دیتی ہوں ، ایک دن یہ تجھے بھی پھنسائے گی......‘‘ اس پر چندرا چپکے سے اپنی کوٹھڑی سے باہر نکلی اور سوکھا سا منہ بنا کر بولی ’’بھابی تو کیوں پریشان ہوتی ہے میرے لیے......؟‘‘ ابھی وہ اور کچھ کہنے والی تھی کہ چھیدام بیچ میں بول پڑا۔’’اب تو تالاب پر جا کر دیکھ تیری ہڈیاں توڑ ڈالوں گا۔‘‘ چندرا بھی چپ رہنے والی نہیں تھی، فوراً جواب دیا ’’ہاں ہاں توڑ ڈال میری ہڈیاں۔ ایک بار صبر تو آجائے گا۔‘‘ اس نے یہ کہا اور خالی گاگر اٹھا کر تالاب کی طرف چل دی۔ چھیدام یہ کیسے برداشت کر سکتا تھا۔آگے بڑھ کر اس کا راستہ روکا اور بالوں سے گھسیٹتا اندر کوٹھڑی میں لے گیا۔ پھر باہر سے کنڈی لگا کر چلا گیا۔ لیکن جب واپس آیا تو چندرا کوٹھڑی میں نہیں تھی۔ نہ جانے کس طرح وہ دروازہ کھول کر بھاگ گئی تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ تین گاؤں دور اپنے چاچا کے گھر چلی گئی ہے۔ آخر چھیدام کو خود وہاں جانا پڑا اور خوشامد کرکے اسے واپس لانا پڑا۔ اس کے بعد اس نے اپنی ہار مان لی تھی۔ وہ جان گیا تھا کہ الہڑ پتنی کو قابو میں کرنا ایسا ہی ہے جیسے پارے کو مٹھی میں بند کرنا۔

    پھر اس نے اس پر پابندیا ں لگانا چھوڑ دیں لیکن اسے چین نہ ملا۔ پریشانیوں اور دکھوں سے بھرا پیار کسی پرانے درد کی طرح اس کے دل میں بیٹھ گیا تھا۔ کبھی کبھی وہ سوچتا کاش چندرا مر جائے۔ ہر وقت کی تکلیف سے ایک دن کا رونا بہتر ہے۔ وہ گوشت پوست کا انسان موت کے فرشتے سے جلن محسوس کرتا تھا۔

    جن دنوں ان کے درمیان یہ کھینچا تانی ہو رہی تھی انہی دنوں وہ منحوس دن بھی آگیا۔ اور ان پر ناگہانی آفت ٹوٹ پڑی۔

    چھیدام نے چندرا سے جب کہا کہ وہ یہ الزام اپنے سر لے لے تو اسے یقین نہیں آیا تھا، وہ جیسے بت بن گئی تھی۔ پھر غصے اور نفرت سے اس کی کالی آنکھیں برمے کی طرح چھیدام کی آنکھوں میں گڑ گئیں۔ اس کا جی چاہا ابھی زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے اور اپنے پتی کی نظروں سے دور ہو جائے۔ وہ اس سے نفرت کرتی تھی۔ وہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔

    بڑے بھائی نے ہمیشہ چھیدام پر بھروسا کیا تھا۔ جب اسے بتایا گیا کہ چندرا سارا الزام اپنے سر لینے کو تیار ہے تو اس نے صرف اتنا سوال کیا۔ ’’اور ا س کا کیا ہو گا؟‘‘ چھیدام نے اسے سمجھایا کہ اس نے چندرا کو بچانے کی ترکیب سوچ لی ہے۔اس پر وہ کٹا کٹا بدحواس آدمی بچوں کی طرح خوش ہو گیا۔

    چھیدام نے چندرا کو جو کہانی سمجھائی وہ یہ تھی کہ چندرا پولیس کو یہ بتائے گی کہ جب جٹھانی کے ساتھ اس کا جھگڑا ہوا تو جٹھانی نے اسے مارنے کے لیے چھری اٹھائی۔ چندرا نے اپنے بچاؤ کے لیے چھری پکڑ لی۔ اس کھینچا تانی میں وہ چھری جٹھانی کے سر پر لگ گئی اور وہ مر گئی۔ یہ کہانی قانون کے ماہر چاچا رام لوچن نے چھیدام کو سمجھائی تھی۔ اس میں ہر طرح کے قانونی نکتہ کا خیال رکھا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کس وقت کس قسم کا اشارہ کرنا ہے اور کس موقع پر کیا حرکت کرنا ہے۔

    پولیس کی تفتیش شروع ہونے تک گاؤں کے بچے بچے کے دماغ میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ چندرا نے ہی اپنی جٹھانی کو مارا ہے۔ ہر شخص ایک ہی کہانی سناتا تھا۔ پولیس نے چندرا سے پوچھا تو اس نے اقرار کر لیا کہ ہاں اپنی جٹھانی کو اسی نے مارا ہے۔

    ’’تو نے کیوں مارا؟‘‘

    ’’مجھے اس کی صورت سے نفرت تھی۔‘‘

    ’’اس نے تجھے غصہ دلایا تھا؟‘‘

    ’’بالکل نہیں۔‘‘

    ’’اس نے پہلے تیرے اوپر وار کیا تھا؟‘‘

    ’’نہیں۔‘‘

    ’’اس نے پہلے کبھی تجھے تنگ کیا تھا؟‘‘

    ’’بالکل نہیں۔‘‘

    چندرا کے ان جوابوں سے ہر ایک چکرا گیا۔ چھیدام جو دھڑکتے دل کے ساتھ یہ سوال جواب سن رہا تھا اب زیادہ برداشت نہ کر سکا اور زور سے چلایا ’’یہ جھوٹ بول رہی ہے۔‘‘ لیکن پولیس افسر نے اسے ڈانٹ دیا۔ ہر سوال پر چندرا یہی کہتی رہی کہ جٹھانی کو اسی نے مارا ہے۔ اور جٹھانی نے اسے بالکل نہیں اکسایا تھا۔ اس نے پہلے وار بھی نہیں کیا تھا۔

    کسی عورت کی اتنی ضد اور اتنی زیادہ ہٹ کاہے کو کسی نے دیکھی ہو گی۔ کسی نے سنا ہوگا کہ ایک انسان اتنی مستقل مزاجی کے ساتھ خود ہی پھانسی کا پھندا اپنے گلے میں ڈال رہا ہو او راپنے بچانے والے کے ہاتھ کو اس طرح حقارت سے جھٹک رہا ہو۔ وہ اپنے ٹوٹے دل کا کتنا بھیانک بدلہ لے رہی تھی۔ وہ کیسے ہولناک انداز میں اپنے پتی کو سندیسہ دے رہی تھی کہ ’’میں سارے سنسار کی آشاؤں اور امنگوں سے بھری جوانی کی پھول مالا گلے میں ڈالے تجھے چھوڑ کر جا رہی ہوں۔ میں موت کا سواگت کرنے آگے بڑھ رہی ہوں۔ اب میرے جیون کا آخری ملاپ موت کے ساتھ ہو گا۔‘‘

    پھر ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنے چندرا چلی گئی۔ اب وہ چنچل دلہن نہیں تھی جو چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر اچھلنے کودنے لگتی تھی۔ وہ جانے پہچانے راستوں پر چلتی ہوئی گاؤں سے باہر چلی۔ وہ ان سیڑھیوں کے قریب سے گزری جو تالاب میں اترتی تھیں، ان جگہوں سے گزری جہاں وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھتی تھی۔ وہ گاؤں کے ڈاک خانے اور سکول کے سامنے سے گزری۔ وہ رام لیلا کے میدان سے ہوتی ہوئی ہر ہفتے لگنے والے ہارٹ بازار کے میدان کو بھی پیچھے چھوڑ گئی۔ اس کے ساتھ جیسے سارا گاؤں جا رہا تھا۔ سب کی نظریں اسی پر جمی ہوئی تھیں۔ ان میں وہ لوگ بھی تھے جو اس وقت بھی اسے قاتل سمجھتے تھے۔ اس نے ہمیشہ کے لیے اپنا گھر چھوڑ دیا تھا۔ اس نے اپنے سر وہ الزام لے لیا تھا جس کا سوچتے ہوئے بھی انسان کانپ جاتا ہے۔ گاؤں کے بچے آخر تک اس کے ساتھ رہے۔ وہ پیچھے مڑے بغیر ہی اپنے بدن پر ان عورتوں کی نگاہیں محسوس کر رہی تھی جو اپنے گھونگھٹ کی اوٹ سے ، دروازوں کی جھریوں سے اور پیڑوں کے پیچھے سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ وہ سمجھ رہی تھیں کہ یہ عورتیں شرم سے مری جا رہی ہوں گی کہ ایک عام سی دیہاتی عورت کو قتل کے الزام میں پولیس پکڑ کر لے جا رہی ہے۔

    چندرا نے اسی شانتی اور اسی وشواس کے ساتھ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ڈپٹی کے سامنے بھی اپنے جرم کااقبال کیا اور کہا کہ مرنے والی نے اسے کوئی غصہ نہیں دلایا تھا۔ چھیدام گواہی دینے آیا تو اس نے رونا شروع کر دیا۔ وہ ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا اور گڑگڑانے لگا کہ اس کی پتنی نردوش ہے۔ اس نے پرارتھنا کی کہ اسے سچی بات بتانے کی اجازت دی جائے۔ جج نے اسے ڈانٹا تو اس کا رونا بند ہو گیا۔ لیکن اس نے جرح کے وقت اصل واقعہ سنا دیا۔

    ڈپٹی مجسٹریٹ نے اس کا اعتبار نہیں کیا کیونکہ مقدمہ کے سب سے ثقہ گواہ چاچا رام لوچن چکر برتی نے اپنی گواہی میں بتایا تھا کہ قتل کے فوراً بعد وہ موقع واردات پر پہنچ گئے تھے۔ انہیں چھیدام نے خود بتایا تھا کہ اس کی پتنی نے اپنی جٹھانی کو مار ڈالا ہے اور وہ ان کے پاؤں پڑ گیا تھا کہ وہ اس کی پتنی کو بچانے کی کوئی ترکیب بتائیں اور رام لوچن نے ایسی کوئی صلاح دینے سے انکار کر دیا تھا ۔ پھر چھیدام نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنی پتنی کو بچانے کے لیے یہ کہانی بنا لے گا کہ اس کا بڑا بھائی بھوکا پیاسا گھر آیا تھا تو اس نے اپنی پتنی سے کھانے کو بھات مانگا تھا اور جب پتنی نے بھات نہیں دیا تو غصے میں اس نے مار ڈالا تھا۔ اس پر رام لوچن نے اس ان پڑھ گنوار کو خبردار کیا تھا کہ عدالت میں جھوٹ بولنا بہت بڑا جرم ہے۔ ہاں رام لوچن نے ایک بات ضرور کہی تھی جس سے چندرا کی تھوڑی بہت جان بچ جاتی، لیکن چندرا خود ہی ٹس سے مس نہیں ہوئی اس لیے وہ خود ہی پیچھے ہٹ گیا تھا۔

    ڈپٹی مجسٹریٹ نے آخری فیصلے کے لیے مقدمہ اعلیٰ عدالت میں بھیج دیا۔

    اس عرصے میں دنیا کا کاروبار اسی طرح چلتا رہا۔ لوگ اسی طرح ہنستے رہے، اسی طرح روتے رہے، کسان ہل چلاتے رہے اور دکاندار دکانیں چلاتے رہے۔ منڈیوں میں اسی طرح خریداری ہوتی رہی۔ ہر سال کی طرح اس برس بھی دور دور تک پھیلے دھان کے ہرے بھرے کھیت ساون کی ٹھنڈی ہواؤں اور نہ تھمنے والے مینہ کے مزے لوٹتے رہے۔

    عدالت لگ چکی تھی۔ ملزمہ پولیس اور گواہ سب مقدمہ کی آخری سماعت کے لیے اکٹھے ہو چکے تھے۔ باہر کے کھلے احاطے میں دیوانی عدالتوں کے سامنے لوگ چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنائے کھڑے تھے۔ وہ سب اپنے مقدموں کی سماعت شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ کلکتہ کا ایک مشہور وکیل ایک ایسے مقدمے میں پیش ہونے آیا تھا جو کسی شخص نے اپنے گھر کی رسوئی کے پیچھے ایک دلدلی زمین کے چھوٹے سے قطعے کی ملکیت کے لیے کیا تھا۔ اس مقدمے میں صفائی کے کم سے کم انچاس گواہ پیش ہو رہے تھے۔ چھیدام عدالت کی کھڑکی سے ان مصروف لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ ایک ذرا سی زمین کے لیے اتنے بہت سے لوگ اتنے بے چین کھڑے ہیں؟ انہیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ دنیا میں اس سے زیادہ اور کسی چیز کی اہمیت نہیں ہے۔ چھیدام کے لیے جیسے وہ ایک سپنا تھا، وہ خواب دیکھ رہا تھا۔ اسی وقت اس نے عدالت کے سامنے صحن میں کھڑے بڑ کے پیڑ پر بیٹھی کوئل کی مدھر آواز سنی۔ صرف کوئل ہی ایسی تھی جو کسی مقدمے کے لیے وہاں نہیں آئی تھی۔

    چندرا نے انگریز جج کے سامنے بھی وہی بیان دہرایا۔ جب اور جرح کی گئی تو گورے صاحب کے سامنے وہ گڑگڑانے لگی۔ ’’آخر کتنی بار مجھ سے یہ سوال کیا جائے گا ؟ میں تنگ آچکی ہوں اس سے۔‘‘ جج نے بڑی نرمی کے ساتھ اس منہ پھٹ  اور بے صبری لڑکی کو سمجھایا کہ وہ اچھی طرح سوچ سمجھ کر جواب دے کیونکہ جس جرم کا وہ اقبال کر رہی ہے اس کی سزا پھانسی ہے۔

    لیکن چندرا نے جواب دیا ’’صاحب بہادر، میں پرارتھنا کرتی ہوں کہ مجھے پھانسی دی جائے۔ آپ مجھے جو چاہیں سزا دے دیں مگر اس روز روز کے کشٹ سے بچا لیں، میں یہ اور نہیں سہہ سکتی۔‘‘

    چھیدا رام گواہی دینے کٹہرے میں آیا تو چندرا نے اسے دیکھ کر منہ پھیر لیا۔ جج نے اس سے کہا کہ گواہ کی طرف دیکھ کر بتائے کہ وہ اس کا کون ہے۔ چندرا نے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ چھپاتے ہوئے جواب دیا کہ وہ اس کا پتی ہے۔

    جج نے پوچھا: ’’کیا  تو سمجھتی ہے کہ وہ تجھ سے پیار نہیں کرتا؟‘‘

    اس نے جواب دیا: ’’وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے۔‘‘

    جج نے سوال کیا: ’’پھر تو اس سے پیار نہیں کرتی۔‘‘

    اس نے جواب دیا: ’’ہاں، میں اس سے پیار کرتی ہوں۔‘‘

    جب چھیدام سے پوچھا گیا تو اس نے کہا اپنی بھابی کو خود اس نے مارا ہے۔

    ’’تم نے کیوں مارا؟‘‘

    ’’کیونکہ جب میں بھوکا گھر آیا تھا تو اس نے مجھے بھات دینے سے انکار کر دیا تھا۔‘‘

    اب دکھی رام کی باری تھی۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا کٹہرے میں آیا اور چکرا کر گر گیا۔ ہوش میں آیا تو اس نے کہا ’’صاحب بہادر، اپنی پتنی کی ہتیا میں نے کی ہے۔‘‘

    ’’تم نے ایسا کیوں کیا؟‘‘

    ’’میں بہت بھوکا تھا۔ میں نے اس سے کھانے کو مانگا، اس نے بدتمیزی کی، میں نے اسے مار دیا۔‘‘

    رحم دل جج نے تمام گواہوں کے بیانوں اور ان پر کی جانے والی جرح کی روشنی میں فیصلہ دیا کہ دونوں بھائی اس نوجوان لڑکی کو بچانے کے لیے جھوٹ بول رہے ہیں۔ جبکہ وہ عورت خود شروع سے اب تک ایک ہی بیان دے رہی ہے۔ گاؤں میں پولیس کی پہلی تفتیش سے آخری سماعت تک اس نے ایک ہی بات کہی ہے۔

    سزا میں کمی کے لیے دو وکیلوں نے اسے ہر طرح کی ترکیب سمجھانے کی کوشش کی لیکن چندرا اپنی ہٹ پر اڑی رہی۔ وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔

    گول مٹول سانولی سلونی لڑکی جب اپنی گڑیاں اور اپنا میکہ چھوڑ کر دلہن بنی پتی کے گھر آئی تھی تو خوشی کے اس موقع پر کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے جیون کا انت اس طرح ہو گا۔ اس کا پتا دوسری دنیا میں آرام سے سو رہا ہو گا۔ اس نے تو اپنی بچی کو جیون کی سیدھی پگڈنڈی پر ڈالا تھا۔

    پھانسی پر چڑھانے سے پہلے نرم دل سول سرجن مکمل سکون اور شانتی کے ساتھ اپنی موت کا انتظار کرتی لڑکی کے پاس آیا۔ اور پیار سے پوچھا۔ ’’تو کسی سے ملنا چاہتی ہے؟‘‘

    ’’ہاں، میں مرنے سے پہلے ایک بار اپنی ماتا کو دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘

    ’’تیرا پتی تجھ سے ملنے بہت دیر سے باہر بیٹھا ہے ، اسے اندر بلا لوں؟‘‘

    ’’بھاڑ میں جائے میرا پتی!‘‘