رابندر ناتھ ٹیگور

رابندر ناتھ ٹیگور

بیچ کی دیوار...... ایک لڑکی

     

    انگریزی ترجمہ، کلپنا بردھن: اردو ترجمہ، مسعود اشعر

     

    نبرن کی زندگی نپے تلے انداز میں چل رہی تھی۔ اس کے ہر کام میں ایک قاعدہ قرینہ ہوتا تھا۔ ہر کام مقررہ وقت پر بندھے ٹکے اصول کے مطابق ہوتا۔ کسی غیر معمولی یا غیر متوقع بات کی وہاں گنجائش ہی نہیں تھی۔ شعر و شاعری سے بھی اس کا کوئی واسطہ نہیں تھا۔ برھا کے گیت ہوں یا خوشی کے ترانے کبھی اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ زندگی میں ان کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔ اس طرح زندہ رہنے کی اس کی عادت پڑ چکی تھی جیسے بار بار کے پہنے جوتوں میں بنا دیکھے پیر ڈالنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ وہ کسی جوش یا جذباتی ہلچل کے بغیر اپنی زندگی کے کسی پہلو پر دھیان دیے بنا ہی جئے جاتا تھا۔

     

    صبح ہوتی تو پرانے کلکتہ کی تنگ سی گلی میں وہ اپنے گھر کے دروازے پر حقہ لے کر بیٹھ جاتا اور پورے اطمینان و سکون کے ساتھ کش لگاتا رہتا۔ وہ کش لگاتا اور سنی سنائی آوازیں اس کے کانوں میں پڑتی رہتیں اور دیکھی بھالی چیزیں اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتی رہتیں۔ لوگ اپنے کام کاج پر جاتے ہوئے، اکے تانگے گلی سے گزر رہے ہوتے۔ اور وشنو بھگت در در جا کر بھیک مانگ رہے ہوتے۔ خالی ڈبے اور خالی بوتلیں خریدنے والے کندھے پر بوری لٹکائے آوازیں لگاتے رہتے۔ وہ حقے کے کش لگاتا جاتا اور ان دیکھے بھالے نظاروں سے لطف اندوز ہوتا رہتا۔ کبھی کوئی آم یا مچھلی بیچنے والا ادھر سے گزرتا تو اس سے بھاؤ تاؤ کرنے لگتا۔ پھر وہ آم یا مچھلی خریدتا اور   گھر کے اندر لے جا کر رسوئی میں رکھ دیا۔ اس وقت تک رسوئی میں پکانے کا کام شروع ہو چکا ہوتا۔ وہ یہ سودا دے کر پھر اپنی جگہ واپس آجاتا۔

     

    پھر وہ ایک خاص وقت پر اٹھتا، اندر جاتا اور اپنے بدن پر سرسوں کے تیل کی مالش کرنے لگتا۔ اس کے بعد اشنان کرتا اور پھر کھانا کھانے بیٹھ جاتا۔ کھانے کے بعد وہ دفتر جانے کے لیے کپڑے تبدیل کرتا۔ کمرے کے ایک کونے میں الگنی پر ٹنگا ہوا کوٹ پہنتا، حقے کے ایک دو کش اور لگاتا، ساتھ ساتھ پان بھی چباتا جاتا۔ پھر اٹھتا ایک اور پان منہ میں دباتا اور سارے دن کے لیے دفتر چلا جاتا۔

     

    دفتر سے واپس آ کر شام کو وہ اپنے پڑوسی رام لوچن گھوش کی بیٹھک میں گزارتا۔ وہاں ان کے دوسرے دوست بھی آجاتے۔ یہ ساری رات ادھر ادھر کی گپ شپ میں گزارتا۔ گھر آ کر کھانا کھاتا اور اپنی پتنی ہرسندری کے ساتھ کمرے میں چلا جاتا۔

     

    سونے سے پہلے وہ تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں کرتے، جیسے کسی پڑوسی کے لڑکے کے بیاہ میں جو چڑھاوا دیا گیا تھا وہ اچھا تھا یا برا، یا نئی نوکرانی بہت کام چور ہے، یا پھر کل جو بھاجی پکائی گئی تھی اس کا مسالہ زیادہ چٹ پٹا تھا۔ ظاہر ہے رات کو بستر پر میاں بیوی اس قسم کی جو باتیں کرتے ہیں کسی شاعر نے اس پر آج تک کچھ نہیں لکھا۔ لیکن نبرن کو اس کی کوئی پروا نہیں تھی۔

     

    اس بار بہار آئی تو نبرن کی بندھی ٹکی زندگی اچانک بکھر گئی ۔ اس کی پتنی کو ملیریا ہو گیا اور وہ پلنگ سے لگ گئی۔ بخار تھا کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ کونین کی شیشیاں پلائی گئیں لیکن بخار نہیں اترا۔ بیس دن ہوئے، بائیس دن ہوئے اور اکتالیس دن ہو گئے۔ نبرن نے دفتر سے بھی کئی چھٹیاں لیں اور شام کو پڑوسی کی بیٹھک بھی اس سے چھوٹ گئی لیکن بخار نہیں اترا۔ اس کا روزمرہ کا معمول بگڑ گیا۔ وہ دن رات کبھی پتنی کا بخار دیکھتا اور کبھی پریشانی میں حقے کےکش لینے دالان کی طرف بھاگتا۔

     

    کئی ڈاکٹر تبدیل کیے، دوستوں اور رشتے داروں نے جو ٹونے ٹوٹکے بتائے وہ بھی کیے۔ آخر پریشانی میں الٹی سیدھی دوا دارو کے باوجود بیالیسویں دن کہیں جا کر بخار اترا۔ لیکن اس بخار نے ہر سندری کو اتنا کمزور اور نڈھال کر دیا تھا کہ اب اس کی آواز بھی مشکل سے سنے ہی نکلتی تھی۔ ایسا لگتا جیسے کہیں بہت دور سے بول رہی ہے۔

     

    تنگ گلی میں گھرے چھوٹے سے چھوٹے گھروں کے اس علاقے میں اگرچہ راتیں ابھی تک گرم تھیں لیکن کبھی کبھی دکھن سے آنے والی ہوا کا کوئی جھونکا یا چاندنی کی کوئی کرن پچھلی کھڑکی کی کسی جھری میں سے گھٹن بھرے کمرے کے اندر آ ہی جاتی تھی۔ ہر سندری کے کمرے کے پیچھے پڑوسی کے گھر کا پچھلا آنگن تھا۔ ایسا سندر تو نہیں تھا لیکن کبھی کسی نے وہاں کروٹن کے کچھ پودے لگائے تھے اور وہ انہیں بھول گیا تھا۔ اب ان پودوں میں پھول آ رہے تھے۔ ایک پیڑ کی سوکھی ٹہنی پر لوکی کی بیل چڑھ رہی تھی۔ آنگن کی دوسری طرف رسوئی کے ساتھ اینٹوں کی ٹوٹی پھوٹی دیوار ملبے کا ڈھیر بنی ہوئی تھی، اس کے ساتھ کوئلے کی راکھ پھینکی جاتی تھی جس کی وجہ سے وہاں ایک اونچا سا ٹیلہ بن گیا تھا۔

     

    چارپائی پر پڑے پڑے ہرسندری کو یہ سب کچھ دیکھ کر ایسا سکون اور ایسی خوشی ہوئی جس کا احساس اپنی صحت مند حالت میں اس نے کبھی نہیں کیا تھا۔ پہلے تو دن رات گھر کے کام کاج میں پھنسی رہتی تھی۔ اس کے لیے یہ ایسا ہی تھا جیسے کئی مہینے کی شدید گرمی کے بعد ندی کا مٹیالا پانی تہہ کو چھونے لگتا ہے اور نیچے کی ریت نظر آنے لگتی ہے۔ صبح کو سورج کی کرنیں جب شفاف پانی کو چھوتی ہیں تو وہ ندی کے دل میں اترتی چلی جاتی ہیں۔ ہوا کے ہلکے سے جھونکے سے بھی وہ پانی خوشی سے تھرتھرانے لگتا ہے اور راتوں کو تاروں بھرا آسمان ندی کی سطح پر یوں جھلملاتا ہے جیسے پرانی خوشگوار یادیں۔ بہار کی ٹھنڈی میٹھی انگلیوں نے بیماری سے نڈھال ہر سندری کے دل کے تاروں کو آہستہ سے چھوا تو انجانا سا مدھرسنگیت چھڑ گیا۔

     

    اس وقت جب اس کا پتی اس کے پاس آتا، اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتا اور پیار سے پوچھتا: ’’اب کیسی ہو؟‘‘ تو خوشی سے اس کی آنکھیں چھلک پڑتیں۔ پیلے اور ستے ہوئے چہرے پر اس کی بڑی بڑی آنکھیں اور بھی بڑی ہو جاتیں۔ وہ خوشی سے ڈبڈبائی آنکھیں اپنے پتی کے چہرے پر گاڑ دیتی اور کچھ کہے بغیر اس کا ہاتھ اپنے منحنی ہاتھ میں تھام لیتی۔ اس سمے پتی کا دامن بھی انجانی خوشی سے بھر جاتا۔ ایسا لگتا جیسے دور کسی ان دیکھی انجانی دشا سے سکھ شانتی کی لہریں اس کی طرف بڑھی چلی آ رہی ہیں۔

     

    ہر سندری نے کافی دن اسی طرح پلنگ پر پڑے پڑے گزارے۔ دل میں اٹھنے والی ایک قسم کی ترنگ کے سوا اور کوئی چیز اسے ہلنے جلنے پر مجبور نہ کرتی تھی۔ ایک رات جب بہت بڑا گو ل گول سا چاند بڑ کے اس پیڑ کے پتوں میں سے نکل کر سامنے آ رہا تھا جو پڑوسی کی ٹوٹی دیوار میں خود بخود ہی اگ آیا تھا تو ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آیا اور رات کی گرمی اور گھٹن کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ اس وقت ہرسندری نبرن کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی اور کچھ سوچ رہی تھی۔ پھر وہ ایک ایسے لہجے میں جو ہلکا پھلکا بھی تھا اور گھمبیر بھی جھجکتے ہوئے بولی: ’’ہمارے کوئی بچہ نہیں ہے۔ تم ایک اور بیاہ کر لو، تمہیں بچہ مل جائے گا۔‘‘

     

    یہ بات وہ بہت دنوں سے سوچتی رہی تھی۔ انسان جب بہت زیادہ خوش ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ دنیا کا کوئی بھی کا م کر سکتا ہے۔ کوئی بھی ایسا کام جو عام حالات میں نہایت احمقانہ نظر آئے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہر قسم کی قربانی اور ہر طرح کا بلیدان دے سکتا ہے۔ جس طرح سمندر کی لہریں اچھل اچھل کر ساحل کی چٹانوں سے ٹکراتی ہیں اسی طرح دل کے اندر ابھرنے والا پیار بھی کسی کا مقابلہ کرنے اور کسی بھی چیز کے ساتھ ٹکر لینے کو بے تاب رہتا ہے۔ ایک دن اسی طرح کے جذبات میں ڈوبی ہرسندری نے فیصلہ کیا کہ اسے اپنے پتی کے لیے کوئی نیا اور نرالا کام کرنا چاہیے۔ اسے اپنا دل اس کے پیروں میں ڈال دینا چاہیے۔

     

    وہ کئی دن تک سوچتی رہی کہ ایسا کون سا کام ہو سکتا ہے۔ اس کے پاس دولت نہیں تھی، طاقت نہیں تھی، اتنی وہ بدھی مان نہیں تھی۔ اس کے پاس صرف اس کی جان تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اپنی جان کا بلیدان کیسے دے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ اس کی جان کتنا قیمتی تحفہ ہو سکتی ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ اپنے پتی کو کسی طرح دودھ ساگورا اور مکھن ملائم سا بچہ دے دے۔ لیکن کیسے؟ اس کی یہ آشا آج تک پوری نہیں ہوئی تھی اور آگے بھی پوری ہونے کی امید نہیں تھی۔ تب اسے خیال آیا کہ وہ اسے ایک نئی دلہن کا تحفہ دے سکتی ہے۔ ایسی دلہن جو اسے بچہ بھی دے۔ اسے افسوس ہوا کہ عورتیں اس خیال سے ہی کیوں ڈرتی ہیں کہ وہ دوسری عورت برداشت نہیں کر سکتیں۔ اس نے سوچا اگر اپنے پتی کو پیار کیا جا سکتا ہے تو اس کی دوسری پتنی کو پیار کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ یہ سوچ کر فخر اور غرور سے اس کا سینہ پھول گیا۔ اسے خوشی ہوئی کہ وہ ایسا بھی سوچ سکتی ہے۔ اسے اس بات میں کوئی برائی نظر نہیں آئی کہ اپنے پیار میں وہ کسی دوسری عورت کو بھی شریک کر لے۔

     

    ہرسندری نے جب پہلی مرتبہ یہ بات کہی تو نبرن ہنس دیا۔ دوسری اور تیسری   مرتبہ بھی وہ ٹال گیا۔ وہ جتنا انکار کرتا ہرسندری کی خوشی اتنی ہی بڑھتی جاتی، لیکن اس کے ساتھ ہی اس کا ارادہ اور بھی پکا ہوتا جاتا۔ ہرسندری کے بار بار کہنے سے نبرن کے دل میں بھی کھد بد شروع ہوئی۔ آہستہ آہستہ اسے بھی یہ بات اچھی لگنے لگی۔ اس نے بھی سوچنا شروع کیا کہ آخر اس میں برائی ہی کیا ہے۔ اب صبح کو جب وہ حقہ لے کر بیٹھتا تو اپنے گھر میں ننھے ننھے بچے کھیلتے دیکھتا۔ اس کا دل خوشی سے جھوم اٹھتا۔

     

    ایک دن خود ہی اس نے یہ بات چھیڑی۔ لیکن اس طرح کہ اس جیسا پکی عمر کا آدمی نئی دلہن کو ایک ذمہ دار گھر گرہستن بنانے کی ذمہ داری کیسے قبول کر سکتا ہے۔ اس پر ہرسندری بولی: ’’یہ کام میں کر لوں گی، تم بالکل فکر نہ کرو۔‘‘ بن بچے کی ماں نے یہ کہا اور اس کے سامنے نئی دلہن کا نقشہ پھر گیا۔ شرمائی لجائی دلہن جسے چھوٹی عمر میں اس کی ماں کی گود سے چھین لیا گیا ہو۔ اس کے دل میں جیسے مامتا کا دریا ابل پڑا۔

     

    نبرن یہی کہتا رہا کہ اسے تو اپنی پیاری پتنی کی دیکھ بھال سے ہی فرصت نہیں ملتی وہ نئی دلہن کے لیے کہاں سے وقت نکالے گا۔ جب بھی وہ ایسی با ت کرتا ہرسندری اسے وشواش دلاتی کہ سارے کام وہ خود سنبھالے گی۔ وہ مذاق کرتی ’’بیاہ ہو جائے تو پھر دیکھوں گی تم نئی دلہن کے لیے کیسے وقت نکالتے ہو، پھر معلوم ہو گا کہ میرا کتنا خیال کرتے ہو۔‘‘ نبرن اس کا کوئی جواب نہیں دیتا صرف اس کا گال تھپتھپا کر اسے پیار سے ڈانٹتا اور مسکراتا رہتا۔

     

    مختصر طور پر یہ اس کہانی کی تمہید ہے۔

     

    (2)

     

    پھر یوں ہوا کہ بوٹا سے قد اور بھرے بھرے بدن والی ننھی سی لڑکی سے نبرن کا دوسرا بیاہ ہو گیا۔ ناک میں نتھنی پہنے اور آنکھوں میں آنسو بھرے نئی دلہن اس کے گھر آگئی۔ اس کا نام تھا شیل بالا۔

     

    نبرن کو نام اچھا لگا۔ اس کا روپ سروپ اور اٹھنے بیٹھنے کا انداز بھی پیارا تھا۔ صرف تجسس مٹانے کے لیے وہ اسے پیار سے دیکھتا۔ ویسے یہی لگا جیسے نئی دلہن سے اسے دلچسپی نہیں ہے۔وہ ظاہر یہی کرتا کہ جلد سے جلد اس لڑکی کو ٹھکانے لگا کر وہ اپنی عمر اور اپنی حیثیت کے مطابق سنسار کے کاموں میں دوبارہ مصروف ہو جانا چاہتا ہے۔

     

    نبرن کو اتنا سنجیدہ او ربے کار کے کاموں میں مصروف دیکھ کر ہرسندری کو ہنسی آجاتی   وہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی۔ ’’تم اس سے بھاگتے کیوں ہو؟ وہ ننھی سی بچی ہے، تمہیں کھا تو نہیں جائے گی۔‘‘

     

    اس پر نبرن اور بھی پریشان ہو جاتا اور بیزار سی شکل بنا کر کہتا: ’’چھوڑو بھی، مجھے ضروری کام سے جانا ہے۔ ‘‘ وہ ظاہر کرتا جیسے وہ خوامخواہ اس چکر میں پھنس گیا ہے۔

     

    اس پر ہرسندری اس کے کان کے قریب منہ لے جا کر کہتی: ’’اس بے چاری کو تم اپنے گھر لے آئے ہو، اسے اس طرح تو نہ دھتکارو۔‘‘ پھر وہ اسے زبردستی بٹھا لیتی اور شیل بالا کو اس کے بائیں پہلو میں بٹھا کر شیل بالا کا گھونگھٹ اٹھاتی اور زبردستی اس کا چہرہ نبرن کی طرف اٹھا کر کہتی۔ ’’دیکھو تو کتنا سندر مکھڑا ہے، چاند سے بھی پیارا۔‘‘

     

    کبھی کبھی وہ ایک دم اٹھتی اور کمرے میں نبرن اور شیل بالا کو اکیلا چھوڑ کر باہر چلی جاتی۔ نبرن جانتا تھا کہ ’’بے چین آنکھیں کسی جھری سے انہیں دیکھ رہی ہوں گی۔ وہ ان جانا بن جاتا اور نئی دلہن کی طرف پیٹھ پھیر کر لیٹ جاتا۔ شیل بالا اپنا گھونگھٹ اور بھی لمبا کرتی اور پلنگ کے ایک کونے میں گٹھری بن کر پڑ جاتی۔

     

    آخر تھک ہار کر ہرسندری نے اپنی کوششیں چھوڑ دیں۔ وہ مایوس ہو گئی تھی لیکن دل ہی دل میں بہت خوش تھی۔

     

    ادھر ہرسندری نے اپنی کوششیں ترک کیں اور ادھر ان دیکھی اور ان جانی چیزکی کشش نے نبرن کو اپنی طرف کھینچنا شروع کیا۔ اگر کسی کے پاس اچانک ہیرا آجائے تو وہ اسے الٹ پلٹ کر تو ضرور دیکھے گا۔ یہاں تو پھر ایک کچی عمر کی لڑکی تھی، دل موہنے والی گوشت پوست کی لڑکی۔ اسے تو کئی طرح دیکھا جا سکتا تھا۔ کبھی چھپ کر، کبھی چپکے سے کانوں کی بالیان چھو کر، کبھی تھوڑا سا گھونگھٹ ہٹا کر اور کبھی ٹکٹکی باندھ کر جیسے دور کسی ستارے کو دیکھا جا رہا ہو۔ نبرن اس طرح جب بھی اسے دیکھتا ہر بار اس کی سندرتا کا کوئی نیا پہلو اس کے سامنے آتا۔

     

    میک مورین کمپنی کے ہیڈ کلرک اور ہماری کہانی کے ہیرو کو ایسا تجربہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔جب اس کا پہلا بیاہ ہوا تھا تو اس وقت وہ بہت چھوٹا تھا۔ جب تک وہ بڑا ہوا اس کی پتنی اس کے لیے پرانی ہو چکی تھی۔ اور شادی شدہ زندگی اس کے لیے ایک عادت بن چکی تھی۔ وہ ہرسندری سے بھی پیار کرتا تھا، لیکن اب شعوری طور پر اسے جس قسم کی جسمانی خواہش سے واسطہ پڑ رہا تھا اس کا اسے پہلے کبھی احساس ہی نہیں ہوا تھا۔ پکے آم کے اندر جو کیڑا پیدا ہوتا ہے اور وہیں بڑا ہوتا ہے۔ اسے رس تلاش کرنے کہیں باہر نہیں جانا پڑتا۔ وہ نہیں جانتا کہ میٹھا رس چوسنے کی خواہش کیا ہوتی ہے۔ اس کیڑے کو آم سے باہر نکال کر بہار میں پھلتے پھولتے باغ میں چھوڑ دیجیے پھر دیکھیے اس کی للچائی ہوئی حرکتیں۔ کبھی وہ ادھ کھلے گلاب پر منڈلائے گا ، کبھی ایک پھول کی خوشبو سونگھے گا، اور کبھی دوسرے پھول کا رس چوسے گا۔

     

    اب نبرن نے چوری چھپے شیل بالا کو بچوں کے کھلونے لا کر دینا شروع کر دیے۔ کبھی وہ چینی کی گڑیا لے آتا اور کبھی میٹھی گولیاں اور کبھی عطر کی شیشی۔ اس طرح ان دونوں میں بے تکلفی شروع ہوئی۔

     

    انہی دنوں ایک روز ہرسندری نے ان دونوں کو ایک ساتھ بھی دیکھ لیا۔ کام کرتے کرتے وہ شیل بالا کے کمرے کے سامنے سے گزری اور کھلے کواڑوں سے اس نے دیکھا وہ دونوں کوڑیاں کھیل رہے تھے۔ نبرن کی عمر کے آدمی کو وہ بچوں کے اس کھیل میں منہمک دیکھ کر حیران رہ گئی۔ نبرن نے ہرسندری کو بتایا تھا کہ کھانے کے بعد وہ دفتر چلا جائے گا لیکن چپکے سے شیل بالا کے کمرے میں گھس گیا تھا۔ آخر اسے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہرسندری کو ایسا لگا جیسے کسی نے دہکتی سلاخ اس کے دل میں اتار دی ہو۔ ہرسندری کی آنکھوں میں آنے والے آنسو اس کی حدت سے خشک ہو گئے۔

     

    ہرسندری نے سوچا اس لڑکی کو اس گھر میں لانے والی میں ہوں۔ میں نے ان دونوں کا ملاپ کرایا ہے۔ اب وہ یہ دکھا رہا ہے جیسے میں ان دونوں کے بیچ میں کھڑی ہوں ،جیسے میں ان کی خوشیوں کا راستہ روک رہی ہوں۔

     

    ہرسندری شیل بالا کو گھر کے کام کاج سکھاتی تھی۔ ایک دن نبرن کہنے لگا: ’’تم اس سے بہت کام کراتی ہو۔ ابھی تو وہ بچی ہے۔ اس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اتنا کام کر سکے۔‘‘

     

    ہر سندری کے منہ میں تو آیا کہ وہ اسے کچھ سنائے لیکن وہ چپ رہی۔ البتہ اس کے بعد اس نے نئی دلہن سے گھر کے کسی کام کو نہیں کہا۔ کھانا پکانے اور گھر کی صفائی وغیرہ کا سارا کام وہ خود ہی کرتی۔ اس طرح شیل بالا کو گھر کا کام بالکل نہیں آیا۔ ہرسندری شیل بالا کا ہر کام نوکرانی کی طرح کرتی اور نبرن کسی پیشہ ور مسخرے کی طرح اسے ہر وقت خوش رکھنے کی کوشش کرتا۔ شیل بالا نےیہ سیکھا ہی نہیں کہ دوسروں کی سیوا کرنا بھی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ کسی چیز کی ذمہ داری قبول کرنا اس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔

     

    (3)

     

    اسی طرح وقت گزرتا گیا۔ ہرسندری کو محسوس ہوا کہ اس کے اندر کی وہ طاقت ختم ہوتی جا رہی ہے جس نے اسے وشواس دیا تھا کہ اپنے پتی کے پیار میں عمر بھر کے لیے کسی اور کو بھی شریک کیا جا سکتا ہے۔ جب انسانی زندگی کی چودھویں کی رات اس کے سمندر میں جوار بھاٹا پیدا کرتی ہے اور پانی کناروں سے باہر اچھلنے لگتا ہے تو انسان سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی طاقت کا کوئی اور جوڑ نہیں ہے۔ اور وہ دنیا کا ہر کام کر سکتا ہے۔ ایسے میں وہ ہر قسم کا وعدے کا پاس کرنا اس کے لیے امتحان بن جاتا ہے تو زندگی ہی اس کے لیے ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔ جب دولت کی ریل پیل ہو تو بڑے سے بڑا تحفہ دیتے بھی دل نہیں دکھتا ، لیکن جب غربت ہو اور ایک ایک پیسہ قیمتی نظر آتا ہو تو انسان سوچتا ہے ہم کتنے چھوٹے ہیں، کتنے کمزور ہیں اور ہماری بساط ہی کیا ہے۔

     

    بیماری سے اٹھنے کے بعد ہرسندری نئی تاریخوں کے چاند کی طرح کمزور اور پیلی ہو گئی تھی۔ اس وقت اسے اپنے لیے کسی چیز کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی لیکن جیسے جیسے اس کے بدن میں جان آتی گئی اور اس کی رگوں میں تازہ خون دوڑنا شروع ہوا تو ویسے ہی اس کے دل میں ایسی آوازیں بھی اٹھنے لگیں جو اس نے پہلے کبھی نہیں سنی تھیں۔ اس سے چیخ چیخ کر   کوئی کہہ رہا تھا:’’تم نے سب کچھ تیاگ دیا لیکن ہم اپنا حق نہیں چھوڑیں گے۔‘‘

     

    جس دن ہرسندری نے اپنی حالت پر غور کیا اسی دن اس نے اپنا کمرہ چھوڑا اور گھر کے دوسرے کونے میں ایک کوٹھری میں چلی گئی ۔ آٹھ برس کی عمر میں بیاہ کر وہ جس پلنگ پر آئی تھی اور ستائیس برس بعد اس نے چھوڑ دیا۔ اس رات اس بیاہی عورت نے گھر کے ایک کونے میں دیا بجھایا اور نیند سے بیزار آنکھوں کے ساتھ وہ اپنے دکھوں کے ناقابل برداشت بوجھ میں دبی بیوگی کے نئے   بستر پر لیٹ گئی۔ اسی وقت گلی کے ایک کونے پر کوئی دل جلا نوجوان راگ بہاگ میں کوئی گیت گا رہا تھا۔ وہ گیت کسی مالن کے بارے میں تھا۔ اس کے ساتھ طبلہ بھی بج رہا تھا ، جس کے ہر ’’سم‘‘ پر سننے والوں کی طرف سے واہ واہ کی آوازیں اٹھتیں۔

     

    اسی رات وہی  گیت اس کمرے میں ہزاروں خوشیاں نچھاور کر رہا تھا جہاں نبرن نیند کی ماتی شیل بالا کے کان میں پیار کے بولوں سے رس گھول رہا تھا۔ ’’شوئی‘‘ [1] کے یہ بول اس نے بنکم چندر کے ناول چندر شیکھر سے سیکھے تھے۔ نبرن نے شیل بالا کو نئے شاعروں کی نظمیں بھی سنانے کی کوشش کی۔ یہ گیت یہ نظمیں اس نے پہلے کبھی نہیں پڑھی تھیں۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ ان شاعروں کا نام کیا ہے۔

     

    اٹھتی جوانی کے وہ شہوانی جذبے جو نبرن کے دل کے اندر کہیں بہت دور چھپے رہ گئے تھے اب اچانک اس عمر میں اس کے دل و دماغ پر چھا گئے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی زندگی اس طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ ہمارا بے چارہ ہیرو بالکل نہیں جانتا تھا کہ انسان کے اندر اس طرح کی تکلیف دہ خاصیت بھی کہیں چھپی ہوتی ہے جو ا س کی باقاعدہ اور جانی بوجھی زندگی کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیتی ہے۔

     

    یہ انکشاف صرف نبرن کے لیے ہی پریشانی کا باعث نہیں تھا بلکہ ہرسندری نے بھی اپنے دل میں ایک نئے قسم کا درد محسوس کیا تھا۔ ایسا درد جسے وہ پہلے نہیں جانتی تھی، جیسے ہاتھ سے نکل جانے والی شے کی آرزو اور محرومی کا ناقابل برداشت احساس۔ اب اس کا دل جس چیز کے لیے کلپتا تھا اس کی آرزو اس نے پہلے کبھی نہیں کی تھی۔ اس کے لیے اس نے پہلے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ اس لیے اسے اس کی کبھی یاد بھی نہیں آئی تھی۔ جب نبرن اپنی بندھی ٹکی زندگی گزارتا تھا اور جب راتوں کو بستر پر لیٹ کر دودھ والے کے پیسے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی باتیں کی جاتی تھیں اس وقت اس نے اپنے اندر ایسی ہلچل کا سوچا بھی نہیں تھا۔پیار تھا مگر چکاچوند کے بغیر، جیسے کوئی بھڑک اٹھنے والی چیز آ گ کے شعلے کے سامنے رکھی ہو۔

     

    ہر سندری کو لگا کہ اسے کامیاب او ربھرپور زندگی سے کا ٹ کر محرومی کے غار میں پھینک دیا گیا ہے۔ پھر اسے خیال آیا کہ وہ تو ہمیشہ سے محرومی کا شکار ہے۔ وہ تو جنم جنم کی پیاسی ہے۔ اس کی چڑھتی جوانی کے ستائیس برس کولہو کےبیل کی طرح گھر بار کی چکی سے بندھے گزر گئے۔ اس کا کام صرف یہ دیکھنا تھا کہ اس گھر کو چلانے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ کتنی ترکاری چاہیے اور کتنا مرچ مسالہ، اور کس وقت کیا پکانا ہے۔ اب اس نے جیون کے آدھے راستے میں اپنے بیاہتا بستر پر ایک انجانی لڑکی کو کسی مہارانی کی طرح ان بے بہا خزانوں پر راج کرتے دیکھا جنہیں اس لڑکی نے ان انجانی کنجیوں سے کھول لیا تھا جو ہر سندری کے پاس نہیں تھیں۔ عورت سیوا کرتی ہے تو راج بھی کرتی ہے۔ یہ لکیر کیسے کھینچی جا سکتی ہے کہ ایک عورت تو داسی بنی رہے اور دوسری راج کرے۔ اس سے سیوا کرنے والی عورت کا غرور خاک میں مل جاتا ہے اور دوسری عورت کو بھی راج کرنے میں خوشی حاصل نہیں ہوتی۔

     

    سچی بات تو یہ ہے کہ شیل بالا کو بھی بیاہتا عورت کا سکھ اور شانتی نہیں ملی تھی۔ اسے ہر وقت اتنا زیادہ پیار ملتا تھا کہ خود اس کے لیے پیار کرنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ ندی کی کامیابی یہ ہے کہ وہ بہتی ہوئی سمندر سے جا ملے۔ اگر سمندر اپنے کناروں سے باہر اچھلتا رہے تو ندی کا پانی اس کے اپنے کناروں میں بھرتا رہے گا جو اس کے لیے قدرتی بات نہیں ہے۔ شیل بالا کے گرد ساری دنیا اس پر ہی سارا پیار نچھاور کرتی تھی۔ اس سے اس کا دماغ آسمان پر چڑھ گیا تھا۔ اب وہ اپنے سوا اور کسی سے پیار کر ہی نہیں سکتی تھی۔ اس کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ دنیا کی ہر چیز صرف میرے لیے ہے اور میں کسی کے لیے نہیں ہوں۔ وہ خود پسند بن گئی تھی لیکن اسے کسی بات سے بھی سنتوش نہیں ملتا تھا ۔

     

    (4)

     

    اس دن  بہت زو ر کا مینہ برس رہا تھا۔ کالے بادلوں نے اتنا اندھیرا کر دیا تھا کہ گھر کے اندر کام کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ باہر چاروں طرف پانی بھرا ہوا تھا۔ دیوار کے ساتھ نالی میں پانی اس زور و شور سے بہہ رہا تھا کہ اس پر ندی کا گمان گزرتا تھا۔ ہرسندری اندھیر ی کوٹھری میں اکیلی کھڑی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔

     

    نبرن چوروں کی طرح دبے پاؤں اندر آیا۔ وہ جھجک رہا تھا کہ اندر جائے یا واپس چلا جائے۔ ہرسندری نے اسے دیکھ لیا تھا لیکن وہ چپ رہی۔نبرن اس کے قریب آیا اور ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا۔’’مجھے تمہارے کچھ گہنے چاہئیں۔ تم جانتی ہو میرے اوپر قرض ہے اسے ادا کرنا ہے۔ ساہوکار تنگ کر رہا ہے۔ کوئی چیز اس کے پاس گروی رکھنا پڑے گی۔ مگر میں جلدی چھڑا لوں گا۔‘‘

     

    ہرسندری نے کوئی جواب نہیں دیا۔ نبرن چوروں کی طرح خاموش کھڑا تھا۔ پھر ڈرتے ڈرتے بولا۔ ’’تو گہنے مجھے نہیں مل سکتے؟‘‘

     

    ہرسندری نے صرف اتنا کہا۔ ’’نہیں‘‘

     

    نبرن کے لیے اندر آنا تو مشکل تھا ہی لیکن باہر جانا اس سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ وہ سر جھکائے کھڑا رہا۔ وہ کسی چیز کی طرف بھی نہیں دیکھ رہا تھا۔پھر وہ بلاوجہ بولا: ’’اچھا تو میں کہیں اور کوشش کرتا ہوں۔‘‘

     

    ہرسندری اس کے قرضوں کےمتعلق جانتی تھی او ریہ بھی جانتی تھی کہ اس کا زیور کس کے لیے گروی رکھا جا رہا ہے۔ کل رات اس نئی دلہن نے ضرور اس کے کان بھرے ہوں گے۔اس نے خوب میرا مذاق اڑایا ہو گا اور کہا ہو گا بوڑھی پتنی کے گہنے وہ کیوں نہیں پہن سکتی۔

     

    نبرن چلا گیا تو ہرسندری نے اپنی تجوری کھولی اور تما م گہنے   پاتے نکالے۔ پھر اس نے شیل بالا کو بلایا۔ اسے اپنی وہ بنارسی ساری پہنائی جو اس نے خود اپنے بیاہ کے دن پہنی تھی۔ پھر اسے سر سے پاؤں تک گہنوں میں لاد دیا۔ اس کے بالوں میں کنگھی کی اور بہت ہی سندر سا جوڑا بنایا۔ پھر اپنا کارنامہ دیکھنے کے لیے لیمپ جلایا۔ اس نے دیکھا اس لڑکی کا چہرہ بہت ہی پیارا اور اس کی جلد نہایت نرم و ملائم ہے۔ جیسے مہک دیتا کوئی پکا ہوا پھل۔

     

    شیل بالااس کے کمرے سے باہر نکلی تو اس کی پازیبوں کی جھنکار بہت دیر ہرسندری کی نس نس میں گونجتی رہی۔ وہ سوچنے لگی، ’’ہاں،آج میرا تمہارے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ لیکن ایک دن میں بھی تمہاری عمر کی تھی، میری بھی جوانی پھٹی پڑتی تھی۔ لیکن میرے ساتھ ایسا ہوا کہ کسی نے مجھے میری جوانی کا احساس ہی نہیں دلایا، مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ جوانی کب آئی اور کب مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔ اسے دیکھو وہ اپنی جوانی پر کیسا اتراتی ہے۔ اس کے ہر قدم کے ساتھ کس طرح شوخی اور گھمنڈ کے بادل امنڈتے ہیں۔‘‘

     

    ہرسندری جب اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف تھی اس وقت اس کے گہنے پاتے اس کے لیے کوئی قیمت نہیں رکھتے تھے۔ ان دنوں وہ اس آسانی سے ان سے جدا نہیں ہو سکتی تھی جیسے آج اس نے انہیں تیاگ دیا تھا۔ آج جب اس نے اپنی گھریلو ذمہ داریوں سے بھی زیادہ قیمتی شے اپنے سامنے دیکھی تو اسے محسوس ہوا کہ وہ تو بہت کچھ کھو چکی ہے۔ پھر اپنے زیور اور اپنا مستقبل اسے بے مصرف محسوس ہوا۔

     

    شیل بالا اس وقت کیا سوچ رہی تھی؟ ہرسندری نے اسے سونے چاندی کے جن گہنوں سے لاد دیا تھا ان کی چمک دمک میں وہ یہ بھی نہ سوچ سکی کہ اس کی سوکن نے ان گہنوں کے ساتھ اپنا اور بھی بہت کچھ دے دیا ہے۔ اسے تو اور بھی یقین ہو گیا کہ یہ تو قدرت کا قانون ہے کہ ساری دولت اور ساری خوشیاں اس کے لیے ہی ہیں کیونکہ وہ شیل بالا ہے ، سب کی پیاری ہے۔

     

    (5)

     

    کبھی ہم سنتے ہیں کہ فلاں آدمی سوتے میں چلتا ہے، اس حالت میں وہ کہیں بھی نہیں ٹھٹکتا اور چلنے میں سوتا رہتا ہے۔ اسی طرح بعض لوگ جاگتے میں بھی سوتے رہتے ہیں۔ سوتے میں چلنے والوں کی طرح انہیں بھی اس میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی، وہ اسی طرح سپنے دیکھتے رہتے ہیں، اس وقت تک جب تک ان پر کوئی بہت بڑی بپتا نہیں آ پڑتی۔

     

    ہمارا بدقسمت ہیرو، میک مورین کمپنی کا ہیڈ کلرک نبرن بھی ایسا ہی ہو گیا تھا۔ شیل بالا اس کی زندگی کے لیے ایک ایسا بھنور بن گئی تھی جس کا طاقت ور چکر دور و نزدیک کی ہر چیز کو ہڑپ کیے جا رہا تھا۔ اس بھنور میں صرف نبرن کی ایمانداری اور اس کی ماہوار آمدنی ہی نہیں ڈوبی، اس بھنور نے ہرسندری کی خوشی اور اس کے گہنے کپڑے ہی نہیں نگلے، بلکہ میک مورین کمپنی کی تجوری بھی اس میں خالی ہونا شروع ہو گئی۔ نوٹوں کے بنڈل کے بنڈل اس میں ڈوبتے چلے جا رہے تھے۔ ہر بار نبرن تجوری سے روپے نکالتا تو سوچتا کہ اگلے مہینے اپنی تنخواہ سے اسے پورا کر دے گا لیکن ہر مہینے کی تنخواہ پہلے ہی چھلاوہ بن گئی تھی، وہ تو کسی کو نظر ہی نہیں آتی تھی۔

     

    آخر کار وہ پکڑا گیا۔ یہ ملازمت کئی نسلوں سے اس کے خاندان میں چلی آ رہی تھی۔ اس کے خاندان پر پورا بھروسا کیا جاتا تھا۔ کمپنی کا مالک واقعی اسے پسند کرتا تھا اس لیے اس نے نبرن کو دو دن کی مہلت دی کہ وہ ساری رقم واپس لا کر رکھ دے ۔ اب نبرن نے حساب لگایا تو پتہ چلا کہ وہ تو پچیس سو روپے تک پہنچ چکی ہے۔ وہ پاگلوں کی طرح بھاگا بھاگا ہرسندری کے پاس پہنچا۔ ’’میں تو برباد ہو گیا۔‘‘

     

    ہرسندری کو سارے قصے کا پتہ چلا تو اس کا دل بیٹھنے لگا۔

     

    ’’بھگوان کے لیے ہرسندری مجھے اپنے گہنے دے دے۔‘‘ نبرن نے ہاتھ جوڑ دیے۔

     

    ’’مگر میں تو سب تمہاری دلہن کو دے چکی ہوں۔‘‘ ہرسندری نے رسان سے کہا۔

     

    یہ سن کر نبرن جھنجھلائے ہوئے بچے کی طرح چیخا: ’’تم نے کیوں دیے اپنے گہنے اسے؟ تم سے کس نے کہا تھا ایسی احمقانہ حرکت کرنے کو۔‘‘

     

    ہرسندری جانتی تھی کہ اس کا صحیح جواب دینے کا وقت نہیں ہے۔ اس نے بہت ہی نرمی سے کہا: ’’میں نے وہ ندی میں تو نہیں پھینکے۔‘‘

     

    نبرن اس کی منت سماجت کرنے لگا کہ وہ ابھی شیل بالا کے پاس جائے اور اس سے اپنے گہنے واپس لے آئے۔’’مگر اسے یہ نہ بتایا کہ میں نے مانگے ہیں۔ اور یہ بھی نہ بتانا کہ ان کا کیا کرنا ہے۔‘‘

     

    اب ہرسندری کو غصہ آگیا۔ اس نے جھلاہٹ اور نفرت بھرے لہجے میں کہا: ’’تمہارے خیال میں یہ جھوٹ بولنے کا وقت ہے؟ یہ اس سے چھپانے کا سمے ہے؟ چلو تم بھی میرے ساتھ آؤ۔‘‘

     

    اس نے نبرن کا ہاتھ پکڑا اور اسے دلہن کے کمرے میں لے گئی۔

     

    اس لڑکی نے پوری بات غور سے سنی، لیکن اس نے اسے سمجھنے سے انکار کر دیا۔ وہ کسی قسم کی مدد کو تیار نہیں تھی۔ اس کی طرف سے ساری خوشامدیں اور ساری التجاؤں کا ایک ہی جواب تھا: ’’کیا کر سکتی ہوں؟ میں تو کچھ نہیں کر سکتی۔‘‘

     

    اسے کسی نے بتایا ہی نہیں تھا کہ زندگی کی مصیبت اور پریشانیاں کیا ہوتی ہیں۔ وہ تو یہ جانتی تھی اگر کسی کو کوئی پریشانی ہے تو وہ اس کا علاج خود کرے۔ سب لوگوں کا کام تو یہ ہے کہ صرف اسے خوشیاں دینے کی کوشش کریں۔ یہ انیائے اس کے ساتھ کیوں کیا جا رہا ہے کہ اس سے کسی کی مدد کرنے کو کہا جا رہا ہے؟

     

    نبرن نے اس کے پاؤں پکڑ لیے، لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ ’’میں اپنی چیز تمہیں کیوں دوں؟ میری بلا سے تمہیں جو ہوتا ہے وہ ہو جائے۔‘‘

     

    نبرن نے محسوس کیا کہ یہ چھوٹی سی چھوئی موئی سی لڑکی تو اندر سے فولادی تجوری سے بھی زیادہ سخت ہے۔ ہرسندری نے اپنے پتی کی یہ بے عزتی دیکھی تو شرم سے پانی پانی ہو گئی۔ اس نے شیل بالا سے چابیوں کا گچھا مانگا۔ اس نے نہیں دیا تو چھیننے کی کوشش کی۔ اس پر شیل بالا نے غصے سے وہ گچھا دیوار سے باہر تالاب میں پھینک دیا۔ ہرسندری نے نبرن سے کہا: تجوری توڑ لو لیکن شیل بالا نے دھمکی دی کہ اگر ایسا کیا تو وہ گلے میں پھندا ڈال کر مر جائے گی۔

     

    نبرن شدید مایوسی کے عالم میں بولا: ’’اچھا ......تو پھر دوسرا کام کرتا ہوں۔‘‘

     

    دو گھنٹے کے اندر جب وہ واپس آیا تو اس نے گھر بیچ دیا تھا۔ وہ گھر جو اسے وراثت میں ملا تھا وہ گھر اس نے پچیس سو روپے میں بیچ دیا۔

     

    انتہائی خوشامد درآمد کے بعد وہ ہتھکڑی سے تو بچ گیا لیکن نوکری سے نکالا گیا۔ اس نے اپنی زندگی میں جو کچھ جوڑا تھا وہ پہلے ہی ختم کر چکا تھا۔ اب وہ تھا اور اس کی دو بیویاں۔ اس نے اپنا اتنا بڑا خاندانی مکان چھوڑا اور گلی کے دوسرے سرے پر ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں اٹھ گیا۔

     

    (6)

     

    نوجوان پتنی پیٹ سے تھی۔وہ ہر وقت گلے شکوے کرتی رہتی کہ اگر اسے رکھ نہیں سکتے تھے تو بیاہ کر کیوں لائے تھے؟ اسے اپنے پتی پر پڑنے والی بپتا کا ذرا سا بھی احساس نہیں تھا۔

     

    کرائے کے اس گھر میں صرف دو کمرے تھے۔ ایک میں شیل بالا اور نبرن رہتے تھے۔ دوسرے میں ہرسندری۔ شیل بالا روتی رہتی کہ وہ دن رات ایک کمرے میں پڑے پڑے بیزار ہو جاتی ہے۔ نبرن اسے تسلی دیتا کہ جلد ہی بڑا گھر لے لیں گے۔ اس پر شیل بالا کہتی ’’ہرسندری کا کمرہ بھی ہم کیوں نہیں لے لیتے؟‘‘

     

    شیل بالا جب بڑے گھر میں رہتی تھی تو اس نے اپنے پڑوسیوں کو کبھی گھاس بھی نہیں ڈالی تھی۔ ایک دن پڑوس کی عورتیں اس سے ہمدردی کرنے آئیں تو شیل بالا انہیں دیکھ کر اپنے کمرے میں گھس گئی اور اندر سے کنڈی لگا لی۔ جب وہ چلی گئیں تو وہ انہیں برا بھلا کہتی باہر آئی کہ وہ سب اسے چڑانے آئی تھیں۔ اس دن اس نے کھانا بھی نہیں کھایا۔ اور اتنا چیخی کہ سارے محلے کو یہ چل گیا کہ وہ کیوں ناراض ہے۔

     

    بچے کی پیدائش کا وقت جتنا قریب آتا جا رہا تھا شیل بالا اتنی ہی چڑچڑی ہوتی جا رہی تھی۔ آخر وہ اتنی بیمار ہو گئی کہ بچہ ضائع ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ نبرن نے ہرسندری کی خوشامد کی کہ وہ اسے کسی طرح سمجھائے کہ کھایا پیا کرے۔

     

    ہرسندری پہلے ہی اس کی سیوا کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ شیل بالا غصے میں اسے برا بھلا سناتی تب بھی وہ خاموشی سے پی جاتی۔ شیل بالا کا چڑچڑا پن اتنا بڑھ گیا تھاکہ ڈاکٹر اسے جو دوا دیتا وہ بھی پینے سے انکار کر دیتی۔ اسے سخت بخار چڑھا ہوتا اور وہ شور مچاتی کہ امبیا کی چٹنی کے ساتھ بھات کھائے گی۔ اسے وہ نہ دیا جاتا تو چیخ چیخ کر سارا گھر سر پر اٹھا لیتی۔ ہرسندری ماں کی طرح اسے پیار سے سمجھاتی، بلکہ کبھی کبھی اسے ڈانٹ بھی دیتی۔

     

    شیل بالا زندہ نہ رہ سکی۔ ساری دنیا نے اس پر پیار و محبت کے پھول نچھاور کیے لیکن وہ ننھی سی جان صرف جسمانی بیماری کے ساتھ ہی نہیں ذہنی اذیت کے ساتھ بھی ختم ہو گئی۔

     

    (7)

     

    نبرن پہلے تو اس صدمے سے جیسے ڈھے سا گیا۔ لیکن پھر اسے احساس ہوا کہ وہ ایک خوفناک بندھن سے آزاد ہو گیا ہے۔ اسے صدمے کے ساتھ ہی آزادی کا احساس بھی ہوا۔ وہ ایک ڈراؤنے خواب سے جاگا تھا۔ ایسا خواب جو کابوس کی طرح اس کے سینے پر سوار تھا اور اس کا گلا گھونٹ رہا تھا۔ اب اس نے اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کیا ۔ اسے خیال آیا جس ہری بھری بیل نے اسے اپنے شکنجے میں کس کر رکھا تھا وہ اس کی اپنی نئی دلہن شیل بالا تھی۔ اس نے ٹھنڈا سانس لیا۔ وہ تو ایک رسی تھی جس کا پھندا اس نے اپنے گلے میں ڈال لیا تھا۔

     

    اور ہرسندری؟ کیا وہ اس کی سچی جیون سنگنی نہیں ہے؟ اب اسے احساس ہوا کہ اس کے سارے سکھ دکھ کا مرکز تو وہی ہے۔ وہی تو اس کے گھر کو سنبھالے ہوئے ہے۔ زندگی کے ہر اتارچڑھاؤ میں وہی تو اس کا ساتھ دیتی رہی ہے۔

     

    لیکن ان دونوں میں تو ہمیشہ کے لیے جدائی ہو چکی ہے؟ اب ملن کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ایک چھوٹے سے چمک دار سندر اور بے رحم تیز چاقو نے ایک دل کے دو ٹکڑے کر دیے ہیں۔

     

    اس رات جب سارا شہر گہری نیندمیں ڈوبا ہوا تھا تو نبرن کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ کروٹیں بدلتے بدلتے آخر وہ اٹھا اور دبے پاؤں ہرسندری کی کوٹھری میں پہنچا۔ آہستہ سے آگے بڑھا اور پلنگ کی پٹی پر بیٹھ گیا۔ پھر ایسے لیٹ گیا جیسے پہلے کبھی لیٹا کرتا تھا۔ وہ اپنا وہ پیار حاصل کرنا چاہتا تھا جس پر کسی زمانے میں اس کا حق تھا۔

     

    ہرسندری چپ چاپ پڑی رہی۔

    وہ ایسے ہی ساتھ ساتھ لیٹے رہے جیسے پہلے لیٹتے تھے۔ لیکن اب ان کے درمیان ایک لڑکی کی لاش بھی پڑی تھی۔ اس لاش کو ان میں سے کوئی بھی پار نہیں کر سکتا تھا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ١ ’’شوئی‘‘ کا لفظی مطلب ہے ’’دل و جان سے پیاری‘‘ ناول کا ہیرو یہ بول اپنی معشوقہ سے کہتا ہے جس کا نام شیہبالنی ہے ، یہ نام شیل بالا سے ملتا ہے۔